Wazir e Azam Kyun Muqaddas?
مارگریٹ تھیچر برطانیہ کی وزیراعظم بنیں تو شاید کسی نے نہیں سوچا تھا کہ یہ خاتون ایک دن برطانوی سیاست کی سب سے طاقتور شخصیات میں شمار ہوں گی۔ وہ 4 مئی 1979ء کو وزیراعظم بنیں اور تقریباً ساڑھے گیارہ سال برطانیہ کی قیادت کی۔ وہ برطانیہ کی پہلی خاتون وزیراعظم تھیں اور "آئرن لیڈی" کے نام سے مشہور ہوئیں۔
لیکن نومبر 1990ء میں ان کی اپنی کنزرویٹو پارٹی کے اندر ان کی قیادت پر اعتماد کم ہوگیا۔ مائیکل ہیزلٹائن نے پارٹی قیادت کو چیلنج کیا۔ تھیچر پہلے مرحلے میں مقابلے میں رہیں، مگر دوسرے مرحلے کے انتخابات میں حصہ نہ لینے کا فیصلہ کر لیا، جس کے بعد جان میجر وزیراعظم بن گئے۔
ذرا غور کیجیے، تھیچر عام انتخابات میں شکست کے بعد وزیراعظم کی کرسی سے نہیں اتریں، بلکہ اپنی ہی جماعت کے اندر حمایت کم ہونے پر انہوں نے اقتدار چھوڑ دیا۔ مگر نہ تھیچر نے کہا کہ، "میرے خلاف عالمی سازش ہوئی ہے" یا "مجھے کیوں نکالا؟" اور نہ ان کے حامیوں نے لندن کی سڑکیں بند کیں، نہ برطانیہ میں کوئی ہنگامہ برپا ہوا۔ وزیراعظم بدلا، حکومت بدلی، مگر برطانیہ اپنی جگہ قائم رہا۔ کیونکہ وہاں لوگ جانتے ہیں، وزیراعظم ریاست نہیں ہوتا، ریاست وزیراعظم سے بڑی ہوتی ہے۔
برطانیہ میں پچھلے دس سال میں سات وزیراعظم تبدیل ہو گئے۔ ڈیوڈ کیمرون گئے، تھریسا مے آئیں، پھر بورس جانسن آئے، ان کے بعد لز ٹرس، پھر رشی سونک، پھر کیئر اسٹارمر اور اب اینڈی برنہم۔ وزیراعظم آتے رہے، جاتے رہے، مگر برطانیہ اپنی جگہ کھڑا رہا۔
ڈیوڈ کیمرون نے بریگزٹ ریفرنڈم کے بعد استعفیٰ دیا، تھریسا مے بریگزٹ معاہدہ پارلیمنٹ سے منظور نہ کرا سکیں، بورس جانسن پارٹی گیٹ اور دوسرے سیاسی تنازعات کے باعث اپنی ہی جماعت کے دباؤ میں آئے، لز ٹرس کی حکومت اپنے معاشی منصوبے کے بعد پیدا ہونے والے شدید مالیاتی بحران کی نذر ہوگئی اور رشی سونک عام انتخابات میں شکست کے بعد رخصت ہوئے۔ لیکن لندن کی سڑکوں پر کسی نے یہ نہیں کہا کہ "اگر ہمارا وزیراعظم گیا تو ملک نہیں چلے گا"۔
پارلیمنٹ نے نیا وزیراعظم بنا دیا، کابینہ بدل گئی، پالیسیاں بدل گئیں، پارٹی قیادت بدل گئی، مگر ریاست چلتی رہی۔ یہی اصل فرق ہے۔ ریاست اور حکمران میں فرق سمجھنے کا ہے۔
بورس جانسن کے حامیوں نے اپنے لیڈر کا دفاع ضرور کیا، ان کے مخالفین نے تنقید بھی کی، میڈیا نے اسکینڈلز سامنے لائے، پارلیمنٹ نے سوال اٹھائے، پارٹی کے ارکان نے مخالفت کی اور بالآخر اقتدار کا باب بند ہوگیا۔ 2022ء میں پارٹی گیٹ کے معاملے پر بورس جانسن کو اپنی ہی جماعت کے 148 ارکان کی مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔ مگر کسی نے یہ نہیں کہا، "بورس جانسن کے بغیر برطانیہ نہیں چل سکتا"۔
یہاں سے ذرا پاکستان آئیے۔ یہاں وزیراعظم کرسی سے اترتا ہے تو اس کے حامی سڑکوں پر آتے ہیں، مخالفین جشن مناتے ہیں، ٹی وی چینلز کئی کئی دن تک ایک ہی سوال چباتے ہیں، سوشل میڈیا پر جنگ شروع ہو جاتی ہے اور ایک دوسرے کو غدار، چور، ڈاکو، سازشی اور ملک دشمن ثابت کرنے کی مہم چل پڑتی ہے۔
میاں نواز شریف تین مرتبہ وزیراعظم رہے۔ اقتدار سے نکلے برسوں گزر گئے مگر وہ آج بھی اپنی ہر تقریر میں کہتے ہیں "مجھے کیوں نکالا؟"
دوسری طرف عمران خان صاحب کو دیکھیے۔ وزیراعظم کی........
