Tail, Taqat Aur Samundaron Ki Jang
دنیا کی تاریخ میں کچھ سچ ایسے ہوتے ہیں جو وقت کے ساتھ بدلتے نہیں، صرف ان کے کردار بدل جاتے ہیں۔ طاقت ہمیشہ طاقتور کے پاس رہی ہے اور طاقت کا سب سے بڑا ذریعہ ہمیشہ وسائل رہے ہیں۔ ایک امریکی مفکرنے کہا تھا، "جنگیں نظریات پر نہیں، وسائل پر لڑی جاتی ہیں"۔ آج جب ہم امریکہ اور ایران کی بڑھتی ہوئی کشیدگی کو دیکھتے ہیں تو ہمیں یہ جملہ محض ایک قول نہیں بلکہ ایک زندہ حقیقت محسوس ہوتا ہے۔
پچھلے کچھ عرصے سے خلیج فارس میں غیر معمولی سرگرمی دیکھی جا رہی ہے۔ امریکہ نے اپنا جنگی بحری بیڑہ ایران کے قریب پہنچا دیا ہے اور دنیا ایک بار پھر اس خطے کی طرف دیکھنے لگی ہے جہاں سے دنیا کی معیشت کی سانسیں جڑی ہوئی ہیں۔ یہ محض فوجی مشق نہیں، یہ محض دھمکی بھی نہیں، یہ دراصل ایک پیغام ہے اور یہ پیغام بہت پرانا ہے: طاقت وہی رکھتا ہے جو تیل کے راستوں پر کھڑا ہو۔
امریکی بحری بیڑے کی قیادت اس وقت ایک ایسا جنگی جہاز کر رہا ہے جسے سمندر کا بادشاہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا۔ یو ایس ایس ابراہام لنکن۔ یہ جہاز صرف لوہے، اسٹیل اور الیکٹرانکس کا مجموعہ نہیں بلکہ امریکی طاقت، ٹیکنالوجی اور عالمی برتری کی علامت ہے۔ یہ نیمٹز کلاس کا ایئرکرافٹ کیریئر ہے جسے 1988ء میں بنایا گیا اور 1989ء میں امریکی بحریہ میں شامل کیا گیا۔ اس کی لمبائی تین سو میٹر سے زیادہ ہے اور جب یہ مکمل لوڈ کے ساتھ سمندر میں اترتا ہے تو اس کا وزن ایک لاکھ ٹن سے تجاوز کر جاتا ہے۔
یہ جہاز روایتی ڈیزل یا پیٹرول سے نہیں چلتا بلکہ دو ایٹمی ری ایکٹرز اس کے دل میں دھڑکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ........
