menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Jang Ya Geo Economics?

23 0
29.04.2026

دنیا میں جنگیں کبھی صرف جنگیں نہیں ہوتیں، یہ ہمیشہ کسی بڑی کہانی کا چھوٹا سا باب ہوتی ہیں۔ تاریخ ہمیں یہ سبق بار بار دیتی ہے کہ بندوق کی آواز کے پیچھے اکثر معیشت کی سرگوشی چھپی ہوتی ہے۔ آج اگر ہم امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کو دیکھیں تو بظاہر یہ ایک روایتی جیوپولیٹیکل تنازعہ لگتا ہے، لیکن اگر اس کے پردے ہٹائے جائیں تو اس کے پیچھے ایک بہت بڑی "گریٹ گیم" چلتی نظر آتی ہے۔ ایسی گریٹ گیم جس میں طاقت، وسائل اور مستقبل کی معیشت داؤ پر لگی ہوئی ہے۔

میں آپ کو ایک چھوٹی سی مثال دیتا ہوں۔ انیسویں صدی میں برطانیہ اور روس کے درمیان وسطی ایشیا میں جو کشمکش جاری تھی، اسے "گریٹ گیم" کہا جاتا تھا۔ اس وقت بھی بظاہر بات سرحدوں اور اثر و رسوخ کی تھی، لیکن اصل مسئلہ راستوں، تجارت اور وسائل پر کنٹرول تھا۔ آج وہی کھیل ایک نئے انداز میں کھیلا جا رہا ہے، صرف کھلاڑی بدل گئے ہیں۔ اب میدان میں امریکہ، چین اور خطے کی طاقتیں ہیں، جبکہ ایران اس بساط کا ایک اہم مہرہ بن چکا ہے۔ یہاں ایک اور تاریخی جھلک بھی اہم ہے۔ جب بھی کسی خطے میں وسائل کی اہمیت بڑھتی ہے تو وہاں کشیدگی خود بخود جنم لیتی ہے۔ مشرق وسطیٰ اس کی زندہ مثال ہے۔ پچھلی صدی میں تیل کی دریافت نے اس خطے کو عالمی سیاست کا مرکز بنا دیا اور آج نئی ٹیکنالوجیز نے اسے ایک بار پھر عالمی طاقتوں کی توجہ کا محور بنا دیا ہے۔

اصل سوال یہ ہے کہ امریکہ ایران سے کیوں الجھا ہوا ہے؟ اگر آپ امریکی بیانات سنیں تو وہ ایران پر تین بڑے الزامات لگاتے ہیں: نیوکلیئر پروگرام، خطے میں مداخلت اور دہشت گردی کی حمایت۔ یہ وجوہات اپنی جگہ موجود ہیں، لیکن یہ مکمل کہانی نہیں ہیں۔ اصل کہانی "توانائی" اور "راستوں" کی ہے۔ ایران دنیا کے ان چند ممالک میں شامل ہے جن کے پاس تیل اور گیس کے بے پناہ ذخائر موجود ہیں۔ یہ صرف وسائل نہیں بلکہ عالمی معیشت کی شہ رگ ہیں۔ جس ملک کے پاس توانائی کے وسائل ہوں، وہ دنیا کی معیشت کو کنٹرول کرنے کی پوزیشن میں آ........

© Daily Urdu (Blogs)