menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Tail Ki Qeematon Ka Tufan Aur Bohran

17 0
04.04.2026

تیل کی قیمتوں کا طوفان اور بحران

کبھی کبھی تاریخ قوموں کو ایسے موڑ پر لا کھڑا کرتی ہے جہاں فیصلے صرف اعداد و شمار نہیں رہتے بلکہ وہ اجتماعی شعور، برداشت اور بصیرت کا امتحان بن جاتے ہیں۔ پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی حالیہ غیر معمولی قیمتوں میں اضافہ، پٹرول تقریباً 196 روپے اور ڈیزل 240 روپے فی لیٹر بھی ایسا ہی ایک فیصلہ ہے، جس کی گونج ہر گھر، ہر بازار اور ہر صنعت میں سنائی دے رہی ہے۔ یہ اضافہ محض ایک حکومتی اقدام نہیں بلکہ ایک عالمی طوفان کی بازگشت ہے۔ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ، جغرافیائی کشیدگیاں اور درآمدی معیشتوں کی مجبوریوں نے اس صورتحال کو جنم دیا۔ مگر اصل سوال یہ نہیں کہ قیمتیں کیوں بڑھیں، بلکہ یہ ہے کہ ہم نے اس بحران کو کس انداز میں سنبھالا اور دنیا نے کیا مختلف کیا۔

جنوبی ایشیا میں یہ بحران سب کے لیے یکساں ہے، مگر اس کے اثرات مختلف ہیں۔ تاہم اس پورے بحران کی جڑیں صرف معاشی نہیں بلکہ گہری جغرافیائی اور سیاسی ہیں۔ حالیہ صورتحال دراصل اس غیر ضروری جنگ کا نتیجہ ہے جو ایران پر امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے مسلط کی گئی، جس نے خطے کے امن اور عالمی توانائی نظام دونوں کو شدید عدم استحکام سے دوچار کر دیا ہے۔ آبنائے ہرمز، جہاں سے دنیا کے تقریباً بیس فیصد تیل کی ترسیل ہوتی ہے، اس تنازع کا مرکز بن چکا ہے اور اس میں کسی بھی رکاوٹ نے عالمی منڈی میں قیمتوں کو فوری طور پر اوپر دھکیل دیا ہے۔ اس کشیدگی نے نہ صرف توانائی کے بحران کو جنم دیا بلکہ عالمی مہنگائی، منڈیوں کی بے یقینی اور معاشی دباؤ میں بھی اضافہ کیا ہے، جس کے اثرات براہ راست پاکستان جیسے درآمدی معیشتوں پر منتقل ہو رہے ہیں۔

پاکستان نے ایک سخت مگر فوری راستہ اختیار کیا........

© Daily Urdu (Blogs)