menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Karachi Ka Noha

25 0
21.07.2026

کراچی، جسے کبھی "عروس البلاد" اور "روشنیوں کا شہر" کہا جاتا تھا، آج اپنے ہی دھوئیں، گرد، ٹوٹی سڑکوں، ابلتے گٹروں، کچرے کے ڈھیروں اور حکومتی بے حسی میں دم توڑ رہا ہے۔ میر تقی میر نے دلی کی ویرانی پر کہا تھا:

"ہم رہنے والے ہیں اسی اُجڑے دیار کے"

آج یہ شعر کراچی کی تصویر بن چکا ہے۔ یہ وہ شہر ہے جو کبھی ترقی، تجارت اور امید کی علامت تھا، مگر آج اپنی ہی بربادی کا نوحہ لکھ رہا ہے۔

قیامِ پاکستان کے بعد کراچی نہ صرف ملک کا پہلا دارالحکومت بنا بلکہ قائداعظم محمد علی جناح کے وژن، دو قومی نظریے کی عملی کامیابی اور قومی ترقی کی علامت بھی تھا۔ یہیں سے ریاستی اداروں کی بنیاد رکھی گئی، صنعتوں نے جنم لیا، بندرگاہوں نے ملک کی تجارت کو وسعت دی اور پاکستان کی معیشت نے اپنے سفر کا آغاز کیا۔ بعد ازاں دارالحکومت اسلام آباد منتقل ہونے سے کراچی کی سیاسی اہمیت متاثر ہوئی، لیکن اس کی معاشی حیثیت کبھی کم نہ ہوئی۔ بدقسمتی سے ستم ظریفی اسی شہر کو رفتہ رفتہ قومی ترجیحات میں نظر انداز کر دیا گیا۔

کراچی آج بھی پاکستان کی معاشی شہ رگ ہے۔ ملکی بندرگاہیں، صنعتیں، بینکاری، تجارت، اسٹاک مارکیٹ اور برآمدات کا بڑا حصہ اسی شہر سے وابستہ ہے۔ قومی خزانے میں سب سے زیادہ حصہ ڈالنے والا یہی شہر ہے، مگر ستم ظریفی دیکھیے کہ جس شہر کی کمائی سے ملک کا پہیہ چلتا ہے، وہی شہر بنیادی شہری سہولیات سے محروم ہے۔ ٹوٹی ہوئی شاہراہیں، بارش کے بعد جھیلوں میں تبدیل ہوتی سڑکیں،........

© Daily Urdu (Blogs)