menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Zinda Lashon Ki Basti Aur Pensioners Ki Khamosh Qabren

18 0
14.05.2026

زندہ لاشوں کی بستی اور پینشنرز کی خاموش قبریں

سردیوں کی ایک دھند آلود شام تھی سورج شہر کی ٹوٹی پھوٹی عمارتوں کے پیچھے یوں ڈوب رہا تھا جیسے کسی غریب مزدور کی آخری امید بجھ رہی ہو۔ بندن میاں آج ریلوے ورکشاپ کے اُس سنسان حصے کی طرف نکل گئے تھے جہاں کبھی انجنوں کی سیٹیاں گونجا کرتی تھیں مزدوروں کی آوازیں فضا میں زندگی بھر دیتی تھیں اور چائے کے کھوکھوں پر بیٹھے لوگ اپنے چھوٹے چھوٹے خوابوں پر بات کیا کرتے تھے مگر آج وہاں ویرانی تھی ایسی ویرانی جو انسان کے اندر تک اتر جائے زنگ آلود پٹریاں خاموش پڑی تھیں۔ ٹوٹے ہوئے ڈبے قبرستان کے کتبوں کی طرح ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے تھے اور ہوا جب ان خالی ڈبوں سے گزرتی تو ایسا لگتا جیسے کوئی بھولی بسری روح آہیں بھر رہی ہو۔

بندن میاں آہستہ آہستہ چلتے ہوئے اُس پرانے پلیٹ فارم تک پہنچے جہاں ایک ضعیف شخص پھٹے ہوئے کمبل میں لپٹا بیٹھا تھا۔ اُس کے ساتھ دو چھوٹے بچے تھے جن کے چہروں پر بھوک کی سوکھی ہوئی لکیریں صاف نظر آرہی تھیں۔ قریب ہی ایک عورت زمین پر بیٹھی تھی اُس کے ہاتھ میں ایک پرانی فائل تھی جس کے کاغذ بار بار نمی سے بھیگ کر خشک ہوچکے تھے۔

بندن میاں نے غور سے دیکھا تو وہ عورت مسلسل اُن کاغذوں کو ایسے سہلا رہی تھی جیسے کوئی ماں بیمار بچے کے سر پر ہاتھ پھیرتی ہے۔ بندن میاں اُس کے قریب جا کر بیٹھ گئے اور دھیرے سے بولے بہن یہ فائل کیسی ہے عورت نے ایک سرد آہ بھری اور بولی بابو جی یہ میرے شوہر کی زندگی ہے یہ اُن کی پینشن کے کاغذ ہیں یہ اُن کی تیس سال کی نوکری کا حساب ہے۔ یہ اُن کے بڑھاپے کی لاٹھی تھی مگر اب یہ صرف چند بے جان کاغذ رہ گئے ہیں میرے شوہر تین سال پہلے ریٹائر ہوئے تھے اُنہوں نے سوچا تھا اب سکون سے زندگی گزاریں گے پوتوں کو قرآن پڑھائیں گے شام کو مسجد تک چہل قدمی کریں گے پر حکومت نے اُنہیں صرف انتظار دیا دفتر کے چکر دیے ذلت دی بیماری دی اور آخر کار قبر دے دی۔

بندن میاں خاموش ہوگئے عورت کی آواز بھرانے لگی وہ بولی میرے شوہر ہر ہفتے دفتر جاتے تھے صبح سویرے نہا دھو کر اپنی پرانی وردی جیسا کوٹ پہنتے فائل بغل میں دباتے اور امید لے کر نکلتے شام کو واپس آتے تو اُن کی آنکھوں میں نمی ہوتی۔ وہ بچوں سے نظریں چرا کر کہتے ابھی فائل آگے نہیں بڑھی بابو کہتا ہے اگلے ہفتے آنا پھر اگلا ہفتہ آتا پھر اگلا پھر اگلا اور ایک دن میرے شوہر کی سانس رک گئی۔

بندن میاں نے بچوں کی طرف دیکھا ایک بچہ مٹی سے کھیل رہا تھا دوسرا بار بار اپنی ماں کے چہرے کو دیکھ رہا تھا جیسے سمجھنے کی کوشش کررہا ہو کہ بھوک آخر ہوتی کیا ہے عورت بولی میرے شوہر مرنے سے پہلے بس ایک بات کہتے تھے میں مرچکا ہوں مگر میری پینشن ابھی زندہ ہے شاید اسی انتظار میں کہیں کسی میز پر پڑی ہوگی۔ بندن میاں نے لرزتی آواز میں پوچھا پھر کیا ہوا عورت نے آنکھیں صاف کیں اور بولی پھر ریلوے والوں نے کوارٹر خالی کروالیا بولے یا تو کرایہ دو یا نکل جاؤ میں نے ہاتھ جوڑے کہ میرے شوہر کے بقایا جات مل جانے دو پھر مکان خالی کردوں گا اور کرایہ بھی دے دوں گی۔ مگر کسی نے نہ سنی ایک دن دو آدمی آئے........

© Daily Urdu (Blogs)