Aalmi Taqaton Ka Khel Aur Bigarta Aalmi Tawazun
عالمی طاقتوں کا کھیل اور بگڑتا عالمی توازن
بندن میاں آج پھر اسی پرانے کھوکھے پر بیٹھے تھے جہاں چائے ہمیشہ گرم اور حالات ہمیشہ ٹھنڈے دماغ سے زیرِ بحث آتے تھے۔ مگر آج معاملہ کچھ اور تھا آج چائے کی بھاپ میں بھی ایک بے چینی تھی اور خبروں کے ہجوم میں بھی ایک عجیب سا شور تھا جیسے الفاظ خود اپنے مطلب کھو بیٹھے ہوں اور بیانات اپنی سچائی سے خالی ہو چکے ہوں بندن میاں نے اخبار کو آہستہ سے میز پر رکھا اور گہری نظر سے سامنے دیکھتے ہوئے بولے کہ یہ دنیا اب سیدھی باتوں سے نہیں چل رہی بلکہ پیچیدہ اشاروں اور بدلتے بیانیوں کا کھیل بن چکی ہے اور اس کھیل کا سب سے بڑا کھلاڑی اور امن نوبل انعام کا خواہش مند امریکہ کا صدر ڈونلڈ ٹرمپ ہے جس کے الفاظ کبھی امن کی نوید دیتے ہیں اور کبھی جنگ کا بگل بجاتے ہیں اور یہی تضاد اس وقت عالمی سیاست کا سب سے خطرناک پہلو بن چکا ہے۔
بندن میاں نے ذرا سا جھک کر کہا کہ امریکی صدر کی جانب سے ایک طرف پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل حافظ سید عاصم منیر کی تعریفوں کے پل باندھے جاتے ہیں اور کہا جاتا ہے کہ پاکستان نے جنگ بندی کے لیے اہم کردار ادا کیا ہے مگر اگلے ہی لمحے ایران کو صفحہ ہستی سے مٹانے کی دھمکیاں دی جاتی ہیں۔ اسرائیل کی سلامتی کے نام پر پورے خطے کو آگ میں دھکیلنے کی باتیں کی جاتی ہیں یہ کیسا تضاد ہے کہ ایک ہاتھ سے امن کا پیغام دیا جاتا ہے اور دوسرے ہاتھ سے جنگ کی چنگاری پھینکی جاتی ہے اور یہی وہ دوہرا معیار ہے جس نے عالمی سیاست کو غیر یقینی اور خطرناک بنا دیا ہے۔
کریم بخش جو اب تک خاموش بیٹھا تھا اس نے آہستہ سے پوچھا کہ بندن میاں کیا واقعی یہ سب اسرائیل کے لیے ہو رہا ہے بندن میاں نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ گہری نظر اٹھائی اور بولے کہ بھائی عالمی سیاست میں اتفاق نام کی کوئی چیز نہیں ہوتی ہر قدم کے پیچھے ایک سوچا سمجھا منصوبہ ہوتا ہے اور اگر تم اس پورے منظرنامے کو غور سے دیکھو تو تمہیں صاف نظر آئے گا کہ امریکہ کی خارجہ پالیسی میں اسرائیل محض ایک اتحادی نہیں بلکہ ایک اسٹریٹجک ستون کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ تعلق صرف آج کا نہیں بلکہ دہائیوں پر محیط ہے جس میں فوجی تعاون انٹیلی جنس شیئرنگ مالی امداد اور سفارتی تحفظ سب کچھ شامل ہے اور یہی وجہ ہے کہ........
