menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Zard Qaidi: Koh e Sulaiman Ke Paharon Mein Tabkar Qayamat Ka Afsana

30 0
26.08.2026

زرد قیدی: کوہِ سلیمان کے پہاڑوں میں تابکار قیامت کا افسانہ

صفدر نوید زیدی کے ناول "زرد قیدی: ایک تابکار قیامت کی کہانی" کا سب سے پریشان کن پہلو شاید یہ نہیں کہ مصنف نے کوہِ سلیمان کے دامن میں ایک خوف ناک فرضی بستی تخلیق کی ہے، زیادہ پریشان کن سوال یہ ہے کہ جنوبی پنجاب اور کوہِ سلیمان کے جغرافیے سے واقف قاری اسے پڑھتے ہوئے بار بار کیوں محسوس کرتا ہے کہ وہ اس بستی کو کہیں دیکھ چکا ہے، اس کے پہاڑوں کو جانتا ہے اور اس کے لوگوں کے خوف سے اجنبی نہیں۔

ناول کی فرضی بستی کے پہاڑ کبھی کوئلے کی کانوں کے لیے استعمال ہوتے تھے، پھر وہاں یورینیم دریافت ہوتا ہے۔ یورینیم نکالنے اور اسے پراسیس کرنے کے لیے فیکٹری قائم ہوتی ہے۔ مشینیں ٹھنڈی رکھنے کے لیے پہاڑوں سے نکلنے والی جھیل کا پانی استعمال ہوتا ہے اور فیکٹری کا تابکار فضلہ اسی جھیل میں پھینک دیا جاتا ہے۔ رمضان کمہار اسی پانی سے سبزیاں اگاتا ہے، جانور یہی پانی پیتے ہیں، اسی سے چارہ پیدا ہوتا ہے اور یوں تابکاری کان اور فیکٹری کی حدود سے نکل کر خوراک، پانی، جانوروں اور انسانی جسموں میں اترتی چلی جاتی ہے۔

یہاں "زرد قیدی" محض ماحولیاتی فکشن نہیں رہتا بلکہ استخراجی معیشت (Extractivism) کی ایسی تمثیل بن جاتا ہے جس میں زمین اور انسان دونوں ایک ہی وقت میں خام مال ہیں۔ پہاڑ سے یورینیم نکالا جاتا ہے اور انسان سے محنت، پہاڑ زخمی ہوتا ہے تو انسانی جسم بھی سلامت نہیں رہتا۔

بستی کے ہر بالغ مرد اور عورت پر کانوں میں مزدوری لازم ہے۔ بلوغت کی تصدیق مسجد و مدرسے کا نائب مولوی کرتا ہے۔ لڑکے کے جسم پر بلوغت کی علامت نمودار ہو یا لڑکی کو ماہواری شروع ہو، ریاستی مشینری کے لیے ایک نیا مزدور دستیاب ہوجاتا ہے۔ یوں انسان کے جسم پر مذہبی اختیار، ریاستی حکم اور معدنی استخراج کی ضرورت ایک مقام پر آکر جمع ہوجاتے ہیں۔

انکار کی گنجائش........

© Daily Urdu (Blogs)