menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Zameer Ki Geografia Aur Tamghay Ki Chamak

24 0
16.08.2026

ضمیر کا جغرافیہ اور تمغے کی چمک

پاکستان کی اربن دانش کا باوا آدم واقعی نرالا ہے۔ اس کا ضمیر بھی شاید پاسپورٹ دیکھ کر بیدار ہوتا ہے۔ تل ابیب پہنچے تو صہیونیت کے خلاف سینہ تان کر کھڑا ہوجاتا ہے۔ واشنگٹن پہنچے تو سامراج کے گریبان پر ہاتھ ڈال دیتا ہے۔ دہلی پہنچے تو ہندوتوا کے مقابل مزاحمت کا پرچم اٹھا لیتا ہے۔ کوئی اسرائیلی ادیب اپنی حکومت کے خلاف بولے، کوئی امریکی دانشور جنگ کے خلاف احتجاج کرے، کوئی ہندوستانی ادیب سرکاری اعزاز واپس کردے تو ہماری ٹائم لائنیں اخلاقی جرأت، ضمیر کی آزادی اور دانشور کی تاریخی ذمہ داری کے قصیدوں سے بھر جاتی ہیں۔ ہم حسرت سے کہتے ہیں، کاش ہمارے ہاں بھی ایسے ادیب ہوتے۔ پھر ایک دن اسلام آباد سے سرکاری اعزازات کی فہرست آتی ہے اور اچانک ہمارے اصولوں کے گھٹنوں میں درد شروع ہوجاتا ہے۔

پھر معلوم ہوتا ہے کہ ضمیر بھی جغرافیہ پڑھتا ہے۔ دوسروں کے ملک میں سرکاری تمغہ اقتدار کی علامت ہے، اپنے ملک میں وہی تمغہ "قوم کی طرف سے اعتراف" بن جاتا ہے۔ وہاں اعزاز ٹھکرانا مزاحمت ہے، یہاں قبول کرنا ادب کی خدمت کا صلہ۔ وہاں فنکار سے پوچھا جاتا ہے کہ تم ظلم کے وقت کہاں کھڑے تھے، یہاں کہا جاتا ہے فن کو سیاست سے الگ رکھیے اور اگر تمغہ لینے والا ہمارا محبوب شاعر یا دوست نکل آئے تو اخلاقیات کی پوری درزی منڈی کھل جاتی ہے۔ کسی کے لیے غربت کا عذر، کسی کے لیے عمر بھر کی ادبی خدمت، کسی کے لیے یہ دلیل کہ اعزاز حکومت نہیں ریاست دیتی ہے اور کسی کے لیے یہ حیرت انگیز دریافت کہ تمغہ دراصل عوام کی محبت ہے۔

کتنی عجیب چیز ہے یہ تمغہ۔ چند تولے دھات، تھوڑی سی ربن، ایک سند، چند تالیاں اور ایک تصویر۔ مگر بعض زمانوں میں اس کا وزن بہت بڑھ جاتا ہے۔ اتنا کہ اسے سینے پر لگاتے ہوئے پس منظر میں کھڑی ماؤں کی تصویریں دھندلی ہونے لگتی ہیں۔ وہ مائیں جو اپنے لاپتا بچوں کو ڈھونڈ رہی ہیں۔ جیل کی سلاخیں منظر سے غائب ہونے لگتی ہیں۔........

© Daily Urdu (Blogs)