Saraiki Waseb Ki Aurat Ki Jan Bachayen
سرائیکی وسیب کی عورت کی جان بچائیں
سرائیکی وسیب میں "عورت" کے حوالے سے مردوں کی اکثریت کی سوچ کیا ہے؟ وہ اسے کیسی زندگی گزارتے دیکھنا چاہتے ہیں؟ اس کا بدترین نمونہ اور بدترین مثال دیکھنی ہو تو وہ ہمیں سرائیکی وسیب کے ڈی جی خان ڈویژن میں دیکھنے کو مل جائے گی۔ یہاں پر آباد بلوچ قبائل کی بستیوں اور آبادیوں میں عورتوں کی 99 فیصد آبادی کبھی یونیورسٹی اور کالج تک تعلیم کا سوچ بھی نہیں سکتیں۔ اکثر یہاں وٹے سٹے کی روایت کے تحت بچپن میں ہی یا تو کسی مرد کی منگ بنا دی جاتی ہیں یا پھر ان کا ولی ان کا نکاح کر دیتا ہے۔
عام طور پر چودہ سے پندرہ سال کی عمر میں انھیں ٹوپی والا برقعہ پہنا دیا جاتا ہے اور گھر سے نکلنے کا موقعہ تک نہیں ملتا۔ غیرت یہاں پر عورت کے نام اور اس کے وجود سے اکثر متعین ہوتی ہے۔ غیرت کے تصور سے ان کے تئیں ذرا انحراف عورت کو زندہ رہنے کے حق سے محروم کر دیتا ہے۔
پسند کی شادی یا کسی کو پسند کرنے کا معاملہ خاندان، کنبے تک تو چل جاتا ہے اور وہ بھی دونوں اطراف کی منظوری سے مشروط ہوتا ہے لیکن ازخود خاندان اور کنبے سے باہر شادی کی خواہش اکثر و بیشتر اس کے قتل پر جاکر ختم ہوتی ہے۔
عورت جوان ہوکر بچپن میں اپنے ولی / ماں، باپ، بھائی، چچا، ماموں کی طرف سے کیے جانے والی منگنی یا نکاح کو فسخ کرنے یا اسے ختم کرنے کا اختیار جو شریعت بھی اسے دیتی ہے اور قانون بھی اسے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔ وہ اگر اس حق کو استعمال کرے تو پھر وہ خاندان کی نہیں پورے قبیلے کی غیرت اور عزت پر حملہ کرنے والی سمجھی جاتی ہے اور ان کے ہاتھ آ جائے تو قتل ہوئے بغیر وہ بچ نہیں پاتی۔
سرائیکی وسیب میں قبائلی سماج اور قبائل کی بستیوں میں بلوچ مرد چاہے کتنے ہی ترقی پسند ہونے کے دعوے دار کیوں نہ ہوں، یہاں تک کہ وہ اعلانیہ خود کو کمیونسٹ کیوں نہ کہتے ہوں ان کی بھاری اکثریت اپنے گھر کی بہن اور بیٹی کو پسند کی شادی کرنے کی قطعی اجازت نہیں دیتے اور اگر ان کے گھر میں کوئی لڑکی ان........
