menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Riyasat, Mazhabi Siasat Aur Arachi: Aik Taveel Dastan

15 0
previous day

ریاست، مذہبی سیاست اور کراچی: ایک طویل داستان

پاکستان کی سیاسی تاریخ میں بعض شخصیات اور جماعتوں کا مطالعہ محض ان کے اعلانات یا بیانات سے نہیں بلکہ ان کے عملی سیاسی کردار، ریاستی طاقت کے مراکز سے تعلقات اور مختلف ادوار میں اختیار کی گئی حکمت عملیوں کی روشنی میں کرنا پڑتا ہے۔ مولانا حنیف طیب کی سیاسی زندگی بھی اسی نوعیت کی ایک مثال ہے جسے کراچی، مذہبی سیاست، فوجی اسٹیبلشمنٹ اور شہری سندھ کی سیاسی تشکیل کے وسیع تر تناظر میں سمجھنا ضروری ہے۔

مولانا حنیف طیب نے اپنی سیاسی زندگی کا آغاز انجمن طلباء اسلام (اے ٹی آئی) سے کیا، جو بریلوی یا صوفی سنی مکتب فکر کی طلبہ تنظیم سمجھی جاتی تھی۔ وہ نہ صرف کراچی میں اس تنظیم کے نمایاں رہنما بنے بلکہ بعد ازاں اے ٹی آئی کے ناظم اعلیٰ پاکستان بھی منتخب ہوئے۔ اس کے بعد ان کی سیاسی سرگرمیوں کا مرکز جمعیت علمائے پاکستان (جے یو پی) بنی جہاں وہ جلد ہی اہم قیادت میں شمار ہونے لگے۔

1977ء میں پاکستان قومی اتحاد (پی این اے) کی تحریک میں مولانا حنیف طیب سرگرم کردار ادا کرنے والوں میں شامل تھے۔ پی این اے کی تحریک کے نتیجے میں جنرل ضیاء الحق نے اقتدار پر قبضہ کیا، لیکن جلد ہی جے یو پی کے سربراہ مولانا شاہ احمد نورانی اور فوجی حکومت کے درمیان اختلافات پیدا ہوگئے۔

مولانا نورانی مارشل لا کے خاتمے اور عام انتخابات کے حامی تھے۔ اگرچہ انہوں نے ایم آر ڈی میں باضابطہ شمولیت اختیار نہیں کی، لیکن وہ ضیاء آمریت کے ناقدین میں شامل ہوگئے۔ اسی مرحلے پر جے یو پی کے اندر ایک واضح تقسیم ابھر کر سامنے آئی۔

کراچی میں مولانا حنیف طیب، مولانا عبدالمصطفیٰ ازہری، مولانا ظہور الحسن بھوپالی اور حیدرآباد کے عثمان کینیڈی ان رہنماؤں میں شامل تھے جو مولانا نورانی کی ضیاء مخالف پالیسی سے متفق نہیں تھے۔ پنجاب میں مولانا عبدالستار نیازی، مولانا قمرالدین سیالوی، صاحبزادہ فضل کریم اور مختلف درگاہوں کے سجادہ نشین بھی اسی دھڑے کے قریب سمجھے جاتے تھے۔

یہی........

© Daily Urdu (Blogs)