Mobile Ne Hum Se Kya Cheen Liya?
موبائل نے ہم سے کیا چھین لیا؟
رات کے دو بج رہے تھے۔ ایک باپ پانی پینے کے لیے اٹھا تو اس نے دیکھا کہ اس کا بیٹا ابھی تک جاگ رہا ہے۔ اسے خوشی ہوئی کہ شاید امتحان کی تیاری کر رہا ہوگا، مگر جب وہ قریب گیا تو بیٹے کی نظریں کتاب پر نہیں بلکہ موبائل کی اسکرین پر جمی تھیں۔ چند لمحوں بعد باپ نے آہستہ سے کہا: "بیٹا! تم وقت نہیں گزار رہے، وقت تمہیں گزار رہا ہے"۔ یہی ایک جملہ آج کی پوری نسل کی تصویر بن چکا ہے۔
موبائل بذاتِ خود کوئی دشمن نہیں۔ یہ علم کا خزانہ بھی ہے، روزگار کا ذریعہ بھی اور رابطے کا بہترین وسیلہ بھی۔ مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب آلہ ہمارے ہاتھ میں رہنے کے بجائے ہم اس کے قابو میں آ........
