Qos o Qazah Ke Saaye Talay
حنا ٹریک پر دوڑتے دوڑتے رکی، قریب ہی ایک بنچ پر بیٹھ کر خود کو نارمل کرتے ہوئے پانی پیا۔ بچے پارک میں کھیل رہے تھے۔ آسمان قدرے صاف تھا۔ سورج کی ہلکی میٹھی نارنجی روشنی جامن کے درختوں کے پتوں پر پھیلی ہوئی تھی۔ اس کے مشرق میں آدھی قوس قزح آسمان پر کمان کی طرح نکلی ہوئی تھی جس میں مختلف خوبصورت رنگ تھے سرخ، نارنجی، پیلا، سبز، نیلا، نیلگوں (Indigo) اوربینگنیرنگ شامل تھے۔ قوس قزح کے خوبصورت رنگ دیکھ کر اس کا لمحے بھر کو دل چاہا کہ وہ "ڈریگن ٹیلز" کی طرح اس پر سلائیڈ لے۔
مغرب میں سورج ڈوب رہا تھا چڑیوں کا جھنڈ اپنے اہل خانہ کے ساتھ اپنے آشیانے میں جانے کی تیاریاں کررہا تھا۔ اس نے دائیں جانب گردن گھمائی، دور افق پر تنے سفید بادل پہاڑوں کی مانند لگ رہے تھے اور ان کے آگے تیرتے سرمئی، نیلے، ارغوانی اور سرخی مائل بادل یوں گمان ہوتے تھے جیسے ان پہاڑوں پر چھوٹے چھوٹے گھر آباد ہوں۔ وہ مسکرا دی، مگر پھر اس کا دل بھر آیا۔ سچ ہی تو ہے، بارش بھی بہت زیادہ برس جانے کے بعد آخر کار تھم جاتی ہے، ٹھہر جاتی ہے۔۔ مگر زمین پر اپنے نشانات چھوڑ جاتی ہے، بالکل کسی انسان کی یاد کی طرح۔
وہ اس دنیا کے بہترین مصور کے شاہکار دیکھنے میں غرق تھی۔ اس نے اپنا یوگا میٹ اٹھایا جوگرز اتارے ننگے پاؤں گھاس پر چلتے ہوئے میٹ بچھایا اور آنکھیں بند کرکے میڈیٹیشن کرنے........
