menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Zindagi Zinda Dili Ka Naam Hai

37 0
27.04.2026

زندگی زندہ دلی کا نام ہے

انسان جب شعور کی دہلیز پر قدم رکھتا ہے تب دو سوال اس کے ساتھ چلتے ہیں کہ میں کون ہوں اور مجھے کہاں جانا ہے؟ ان دو سوالوں کے درمیان زندگی اور موت کا پورا فلسفہ آباد ہے۔ انسان پیدا ہوتا ہے، سانس لیتا ہے، ہنستا ہے، روتا ہے، محبت کرتا ہے، خواب دیکھتا ہے اور پھر ایک دن خاموشی سے اس دُنیا سے رخصت ہو جاتا ہے۔ یہی سفر زندگی کہلاتا ہے۔

سوال یہ ہے کہ کیا زندگی کو بڑھایا جا سکتا ہے؟ کیا موت کو شکست دی جا سکتی ہے؟ کیا انسان اپنے مقررہ وقت سے آگے بھی جی سکتا ہے یا زندگی ایک لکھی ہوئی تقدیر ہے جس کے آگے سب سر جھکا دیتے ہیں؟

زندگی دراصل صرف سانس لینے کا نام نہیں۔ اگر ایسا ہوتا تو ہر زندہ جسم خوش نصیب کہلاتا۔ زندگی شعور کا نام ہے، احساس کا نام ہے اور مقصد کا نام ہے۔ ایک درخت بھی زندہ ہے، ایک پرندہ بھی زندہ ہے مگر انسان کی زندگی اس لیے منفرد ہے کہ اس کے پاس سوچنے اور انتخاب کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔ ارسطو نے کہا تھا: " انسان ایک سماجی حیوان ہے" مگر اسی انسان کی اصل پہچان اس کا شعور ہے۔ یہی شعور اسے زندگی کے معنی تلاش کرنے پر مجبور کرتا ہے۔

قرآن کریم میں ارشاد ہے: "ہر نفس کو موت کا مزہ چکھنا ہے"۔ یہ آیت زندگی اور موت دونوں کی حقیقت کو ایک ہی لمحے میں واضح کر دیتی ہے۔ زندگی عارضی ہے اور موت یقینی۔ اس عارضی زندگی کی اہمیت اسی لیے ہے کہ یہ امتحان کے نکتہ نظر سے تشکیل دی گئی ہے۔ انسان کو وقت دیا گیا ہے تاکہ وہ اپنے اعمال سے اپنی منزل کا تعین کرے۔ گویا زندگی ایک قرض ہے اور موت اس قرض کی واپسی۔

زندگی کا آغاز کیسے ہوا؟ یہ سوال فلسفے اور سائنس دونوں کے لیے اہم رہا ہے۔ مذہب کہتا ہے کہ اللہ نے آدمؑ کو مٹی سے پیدا کیا اور اپنی روح پھونکی۔ یہ انسانی زندگی کا آغاز ہے۔ اس کے برعکس سائنس ارتقا کی بات کرتی ہے اور کہتی ہے کہ زندگی پانی سے شروع ہوئی اور لاکھوں برس کے سفر کے بعد موجودہ شکل تک پہنچی۔ دونوں زاویوں میں اختلاف ہو سکتا ہے مگر ایک حقیقت مُشترک ہے کہ زندگی ایک عظیم راز ہے۔ انسان جتنا اسے سمجھنے کی کوشش کرتا ہے اتنا ہی حیران رہ جاتا ہے۔

زندگی کو وقت کے تابع کیوں کیا گیا؟ اس کا جواب........

© Daily Urdu (Blogs)