menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Kya Tareekh Khud Ko Dohraye Gi?

26 0
23.04.2026

کیا تاریخ خود کو دُہراتے ہے؟

تاریخ انسانی شعور کا وہ آئینہ ہے جس میں زمانوں کی جھلک صاف نظر آتی ہے۔ یہ صرف گزرے ہوئے واقعات کا بیان نہیں بلکہ انسانی رویوں، ارادوں اور غلطیوں کا تسلسل ہے۔ جب یہ کہا جاتا ہے کہ تاریخ خود کو دہراتی ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ واقعات بعینہٖ ویسے ہی دوبارہ وقوع پذیر ہوتے ہیں بلکہ انسان کی فطرت اور اس کے فیصلوں میں موجود مماثلتیں نئے حالات میں پرانے نتائج کو جنم دیتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ طاقت کی کشمکش، لالچ، جنگ اور اقتدار کی خواہش بار بار سامنے آتی ہے اور مختلف ادوار میں ایک جیسی کہانیاں تخلیق کرتی ہے۔

عالمی تناظر میں تاریخ کا تصور ایک وسیع اور پیچیدہ دائرہ رکھتا ہے۔ قدیم یونان سے لے کر جدید مغربی فکر تک مورخین اور فلسفیوں نے تاریخ کو سمجھنے کے مختلف زاویے پیش کیے ہیں۔ کچھ مفکرین کے نزدیک تاریخ ایک سیدھی لکیر کی طرح آگے بڑھتی ہے جہاں انسان ترقی کی طرف گامزن ہے جبکہ کچھ کے نزدیک تاریخ ایک دائرے کی مانند ہے جہاں عروج کے بعد زوال اور پھر نئے عروج کا مرحلہ آتا ہے۔ یہ دونوں تصورات اپنے اندر حقیقت کا کچھ نہ کچھ حصہ رکھتے ہیں کیونکہ انسانی معاشرے نہ مکمل طور پر ترقی کی سیدھی راہ پر چلتے ہیں اور نہ ہی مکمل طور پر ایک ہی دائرے میں قید رہتے ہیں بلکہ دونوں کا امتزاج نظر آتا ہے۔

تاریخ کے واقعات دہرائے جانے کی ایک بڑی وجہ انسانی فطرت کا مستقل رہنا ہے۔ طاقت کی خواہش انسان کے اندر ہمیشہ سے موجود رہی ہے۔ قدیم سلطنتوں میں بھی حکمران اپنی حدود کو وسیع کرنے کے لیے جنگیں کرتے تھے اور آج کے دور میں بھی یہی رُجحان مختلف شکلوں میں نظر آتا ہے۔ فرق صرف وسائل اور طریقوں کا ہے۔ اسی طرح معاشی ناہمواری اور طبقاتی تقسیم بھی........

© Daily Urdu (Blogs)