Maqoolat Aur Mazhab
اگر احباب میں سے کسی صاحب نے قادیانی کذاب کی کتاب "اسلامی اصول کی فلاسفی" ذرا دھیان سے پڑھی ہو تو یہ جاننا مشکل نہیں رہتا کہ معقولات کی خرابی کے احوال میں عقیدۂ توحید، عقیدۂ رسالت، شریعت اور تصوف وغیرہ سلامت نہیں رہتے۔ خود تجدد بھی انسانی عقل، تعقل اور عقلیت کے تحول سے پیدا ہوتا ہے۔ علمی روایتوں میں معقولات کی پرورش سے اس بنیادی ترین تہذیبی ذمہ داری کو پورا کرنا مقصود ہوتا ہے کہ عقل کے اپنے پیدا کردہ نظام استدلال میں رہتے ہوئے عقل کے خود اپنے بارے میں، معلوم اور علم کے بارے میں مواقف کو درست اور ثقہ (valid) رکھا جا سکے۔
سادہ لفظوں میں اگر کسی معاشرے کی علمی روایت عقل کی تہذیب اور تعیین نہ کر سکے تو اس میں علوم اور مذہب دونوں کا خاتمہ ہو جاتا ہے۔ معقولات کے خاتمے سے، علوم میں عقل کا وظیفہ اور جائز دائرہ کار رسمی طور پر باقی نہیں رہتا اور وہ مذہب میں گھس جاتی ہے اور مذہب بطور ہدایت اور الوہی کلام اپنی اصل پر قائم نہیں سکتا۔ مائل بہ تکفیر متکلم عظیم جناب پروفیسر ڈاکٹر زاہد مغل جن معقولات کا جھنڈا اٹھائے ہوئے ہیں وہ اساساً اور نوعاً وہی ہیں جس کا قادیانی کذاب نے اپنی کتابوں میں پرچار کیا ہے۔
مجھے کبھی بھی یہ شک نہیں رہا کہ ان کی معقولات مسلم ذہن پر شب خون کی حیثیت رکھتی ہیں اور اب پروفیسر صاحب کا فکری مینڈھا آنکھوں پر عقل کی پٹی باندھ کر،........
