menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Taqreeb Bayaad e Iqbal

26 0
26.04.2026

موجودہ دور میں اقبالیات کی اہمیت محض ادبی یا نصابی حد تک محدود نہیں رہی، بلکہ یہ ایک فکری، روحانی اور عملی رہنمائی کا سرچشمہ بن چکی ہے خاص طور پر اس زمانے میں جہاں نوجوان فکری انتشار، شناخت کے بحران اور مقصدِ حیات کی گمشدگی کا شکار ہیں۔

اگر ہم علامہ محمد اقبال کے افکار کو گہرائی سے دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ محض شاعر نہیں بلکہ ایک مفکر، مصلح اور انسان ساز تھے۔ ان کی تعلیمات آج کے دور میں کئی حوالوں سے نہایت اہم ہیں۔

آج کا انسان، خاص طور پر نوجوان، اپنی پہچان کھو بیٹھا ہے۔ مغربی تہذیب کی اندھی تقلید میں وہ اپنی اصل سے دور ہو رہا ہے۔ اقبال کا تصورِ خودی انسان کو اپنی قدر پہچاننے، خود اعتمادی پیدا کرنے اور اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کی دعوت دیتا ہے۔

مادیت materialism آجکا دور جہاں کامیابی کو صرف دولت اور شہرت سے جوڑا جاتا ہے۔ اقبال اس سوچ کو چیلنج کرتے ہیں اور انسان کو ایک اعلیٰ مقصد، یعنی روحانی بلندی اور خدمتِ انسانیت، کی طرف متوجہ کرتے ہیں۔

اقبال نے مسلمانوں کو ان کی کھوئی ہوئی عظمت یاد دلائی اور انہیں اتحاد، خودی اور عمل کا درس دیا۔ موجودہ دور میں جب امت انتشار کا شکار ہے، اقبال کا پیغام مزید اہم ہو جاتا ہے۔ اقبال نے خاص طور پر نوجوانوں کو مخاطب کیا ہے۔ وہ انہیں شاہین سے تشبیہ دیتے ہیں، بلند پرواز اور خوددار۔ آج جب نوجوان بے مقصدیت، ڈپریشن اور سستی کا شکار ہیں، اقبالیات انہیں عمل، جدوجہد اور امید کا سبق دیتی ہے۔

یہ حقیقت ہے کہ علامہ محمد اقبال ایک ایسی ہمہ گیر شخصیت ہیں جن پر بے شمار تحریریں رقم ہو چکی ہیں اور جن کی فکرکے فروغ کے لیے لاتعداد فورمز اور محفلیں منعقد ہوتی رہی ہیں۔ الحمرا کے وسیع و باوقار ہال میں ایک ایسی فکری محفل سجی جہاں نوجوان طلبہ کی کثیر تعداد کے ساتھ ممتاز اساتذہ، اقبالیات کے نامور اسکالرز اور دیگر نمایاں شخصیات شریک ہوئیں۔ یہ اجتماع دراصل فکرِ اقبال کی روشنی میں ایک نئے جہان کی جستجو کا عکاس تھا۔

اس تقریب کے چشم براہ تھے چیئرمین علامہ اقبال کونسل جناب ذوالفقار احمد چیمہ اور نظامت تھی سید تنویر عباس تابش دیگر مہمان خصوصی میں شامل تھے ایرانی کونسل جنرل مہران مواحد، ڈاکڑ اقرار احمد خان، پرنسپل کنیرڈ کالج ڈاکڑ ارم انجم، بریگڈئیر وحید الزمان طارق........

© Daily Urdu (Blogs)