Jab Mamta He Maqtal Ban Gayi
جب ممتا ہی مقتل بن گئی
کبھی کبھی لفظ بانجھ ہو جاتے ہیں، قلم کی زبان گنگ ہو جاتی ہے اور قرطاسِ ابیض پر پھیلی سیاہی لہو کے دھبوں میں بدلتی محسوس ہوتی ہے۔ لاہور کے گنجان آباد علاقے اچھرہ سے اٹھنے والی چیخیں صرف ایک گھر کی دیواروں تک محدود نہیں رہیں، بلکہ انہوں نے انسانیت کے پورے وجود کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ یہ محض ایک بریکنگ نیوز نہیں تھی، یہ اس تہذیب، اس سماج اور اس مقدس ترین رشتے کا نوحہ تھا جسے ہم ماں کہتے ہیں۔
جب خبر آئی کہ تین معصوم کلیاں جن کی عمریں محض دو سے پانچ سال کے درمیان تھیں، اپنے ہی گھر کے بند کمرے میں ذبح کر دی گئیں، تو کلیجہ منہ کو آگیا۔ لیکن جب پولیس کی تفتیش نے یہ لرزہ خیز انکشاف کیا کہ قاتل کوئی باہر سے آنے والا درندہ نہیں بلکہ وہی ماں تھی جس کی آغوش کو بچہ کائنات کا سب سے محفوظ مقام سمجھتا ہے، تو عرشِ الٰہی بھی لرز اٹھا ہوگا۔
ذرا تصور کیجیے ان........
