Intizamia Ka Baldozer Aur Ghareeb Ka Choolha
انتظامیہ کا بلڈوزر اور غریب کا چولہا
شہر کی پختہ سڑکوں پر جب سورج اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ چمکتا ہے، تو اس کی تپش صرف زمین کو نہیں جلاتی بلکہ ان ہاتھوں کو بھی جھلسا دیتی ہے جو حلال رزق کی تلاش میں ایک ریڑھی کا سہارا لیے کھڑے ہوتے ہیں۔ آج کل ہمارے گرد و نواح اور خاص طور پر لیہ سٹی کے گلی کوچوں میں جو مناظر دیکھنے کو مل رہے ہیں، وہ انسانیت کا سر شرم سے جھکا دینے کے لیے کافی ہیں۔ ایک غریب انسان، جس کی کل کائنات لکڑی کے چار پہیوں پر ٹکی ایک ریڑھی ہے، وہ صبح سویرے اس امید کے ساتھ گھر سے نکلتا ہے کہ شام کو جب واپس لوٹے گا تو اس کے بچوں کے چہروں پر بھوک کی زردی نہیں بلکہ سکون کی لہر ہوگی۔ لیکن افسوس کہ اسے سڑک پر گاہکوں سے پہلے انتظامیہ کے غیظ و غضب کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
کیسا المیہ ہے کہ ایک طرف ریاست روزگار فراہم........
