menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Atai Ya Atai Aur Sufia Ya Soofi?

26 0
28.03.2026

عطائی یا اتائی اور صوفیہ یا صوفی؟

وہ ایک بوڑھا خطاط جس کا نام ایس نازہے۔ وہ کہتا ہے کہ دنیا میں سب سے بڑا جرم "قتل" نہیں ہے، بلکہ کسی لفظ کے ہجے بگاڑ دینا ہے۔ اس کا ماننا ہے کہ جب آپ کسی لفظ کی شکل بدل دیتے ہیں، تو آپ اصل میں اس کے پیچھے چھپی ہزار سالہ تہذیب کا چہرہ مسخ کر دیتے ہیں۔ ایس ناز اکثر کہا کرتے، بیٹا! اگر تم نے "خالق" کے نقطے بدل دیے تو تم مخلوق کی توہین کرو گے اور اگر تم نے "محبت" کا میم چھوٹا کر دیا تو تم نفرت کے بیج بو دو گے۔ ہمیں تب ان کی بات سمجھ نہیں آئی، مگر وقت کے تھپیڑوں نے ثابت کر دیا کہ لفظ صرف آوازیں نہیں ہوتے، یہ حقیقت کی بنیاد ہوتے ہیں۔

گزشتہ دنوں نشتر ٹاؤن پریس کلب میں ایک دلچسپ مگر سبق آموز واقعہ پیش آیا۔ ایک نوجوان صحافی دوست بڑی تندہی سے ایک خبر تیار کر رہا تھا۔ اس نے جوشِ تحریر میں ایک بستی کا نام "صوفیہ آباد" لکھ دیا۔ پاس ہی ہمارے سینئر، منجھے ہوئے صحافی اور لفظوں کے نبض شناس عبدالستار عاجز صاحب تشریف فرما تھے۔ ان کی عقابی نظریں خبر پر پڑیں تو وہ بے اختیار مسکرا دیے۔ انہوں نے کمالِ شفقت سے نوجوان کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور ایک ایسی بات کہی جو آج کے دور میں نایاب ہے۔ عاجز صاحب نے فرمایا، برخوردار! یہ صوفیہ آباد نہیں، صوفی آباد ہے۔ ایک "ہ" کا اضافہ کرکے تم نے اس بستی کا پورا شجرہ نسب ہی بدل دیا ہے۔

یہ محض ایک لفظ کی درستی نہیں تھی، یہ ایک پوری نسل کی تربیت تھی۔ عبدالستار عاجز صاحب........

© Daily Urdu (Blogs)