Unchi Awaz, Kamzor Daleel
اونچی آواز، کمزور دلیل
میرے دیرینہ دوست عامر ایاز خان تقریباََ چالیس سال تک سعودی عرب میں جاب کرتے رہے تھے۔ بچپن کے دوست ہونے کے ناتے وہ جب بھی محدود چھٹیوں پر پاکستان تشریف لاتے تو ان کی ایک فرمائش یہ بھی ہوتی کہ پاکستانی پنجابی فلم "مولاجٹ" ضرور دیکھی جائے اور وہ بھی کسی سینما ہال کی آگے والی سیٹیوں پر بیٹھ کر کیونکہ وہاں سینما کے اسپیکر نزدیک ہونے کی وجہ سے آواز بڑی بلند اور دھماکہ دار ہوتی اور ساتھ ہی بچپن میں ان سیٹوں پر بیٹھنے اور فلم دیکھنے کی پرانی سنہری یادیں بھی تازہ ہو جاتیں۔ وہ اس فلم میں دو کرداروں "مولا جٹ" اور "نوری نت"کے ڈائیلاگ اور بڑھکیں بہت پسند کرتے تھے۔
اس زمانے میں یہ کامیاب ترین فلم اپنےانہیں زبردست ڈائیلاگ کی بدولت ہی شہرت کی بلندیوں کو چھو رہی تھی۔ ہیرو او ولن ایک دوسرے کو ختم کر دینے کے بڑے بڑے ڈائیلاگ بولتے لیکن انکی لڑائی سے قبل ہی کوئی ایسی وجہ ہو جاتی یا کوئی بزرگ درمیان میں آجاتا اور ان میں صلح صفائی کرا دیتا۔ یوں ان کی لڑائی ہمیشہ ڈائیلاگ تک ہی محدود رہتی اور فلم ختم ہو جاتی تھی۔ فلم کا ہیرو سلطان راہی (مولاجٹ) اپنی مخصوص اور گرجدار آواز میں للکارتا تو سینما ہال کی فضا میں ایک عجیب سا جادو پھیل جاتا تھا۔ اس کی بڑھک محض الفاظ نہیں ہوتے تھے بلکہ ایک کردار کی غیرت، انا اور انتقام کی کہانی ہوتی تھی اور مصطفیٰ قریشی (نوری نت) کی جانب سے اس کی بڑھک کا خوفناک جواب اس سے بھی زیادہ زبردست ہوتا۔ ناظرین تالیاں بجاتے، سیٹیوں کی گونج سے پورا سینما ہال لرزنے لگتا اور چند لمحوں کے لیے ہمارے جیسے کمزور دل بھی خود کو طاقتور سمجھنے لگتے تھے۔
دوسری جانب فلم کے ولن کی دھمکیاں سن کر خوف اور دہشت کے سائے منڈلانے لگتے تھے۔ یہ ہماری فلمی دنیا کا رومانس اور ایکشن کے ساتھ ساتھ بڑھکوں کا دور بھی ہوا کرتا تھا۔ مولاجٹ اور نوری نت کے کردار دراصل اچھائی اور برائی کی........
