Naye Subon Aur Awami Khwab Aur Khwahishat
نئے صوبے اور عوامی خواب اور خواہشات
نئے صوبوں کے قیام اور نظام کے "ری سیٹ" کرنے کی وزیرداخلہ کی تازہ تقریر نے عوامی سطح پر ایک ہل چل مچا دی ہے۔ ایک جانب عام عوام نئے صوبے بننے سے اپنےمسائل کو کم ہونے کی توقعات لگائے بیٹھے ہیں تو دوسری جانب وہ اشرافیہ جو پہلے بھی کسی نہ کسی طرح تمام حکومتوں کا حصہ رہ چکی ہے اب نئے نقشے میں بھی حکمرانی کے خواب دیکھ رہی ہے۔ عام آدمی کا ایک سوال ہے کہ نیا صوبہ بننے سے عوام کو ریلیف کیسے ملے گا؟ اس کی محرومی اور پسماندگی کیسے دور ہوگی؟ روزگار کے مواقع کیسے حاصل ہو ں گے؟ عام آدمی کی زندگی میں آسانی اور اس کی مشکلات میں کمی کیسے آئےگے؟
ہم نے آزادی حاصل کی، جمہوریت اپنائی، انتخابات دیکھے، حکومتیں بنتی اور گرتی دیکھیں، مگر ایک سوال آج بھی اپنی جگہ موجود ہےکہ حکمران کون؟ کیا عوام جن کے ووٹ سے ایوان آباد ہوتے ہیں یا ان چند خاندانوں اور طبقات کا جو نسل در نسل اقتدار کے دروازوں کی چابیاں ہمیشہ اپنے پاس رکھتے آئے ہیں؟ نئے صوبوں کا مطالبہ اگر صرف ایک نئے نقشے، نئے دارالحکومت اور نئی وزارتوں کا نام ہے تو یہ ادھورا خواب ہے۔ مکمل خواب (نظام کاری سیٹ) تو یہ ہے کہ اقتدار کے وہ دروازے کھلیں جو عام آدمی کے لیے مدتوں سے بند ہیں اور ریاست کا اختیار ایوانوں کی بلندیوں سے اتر کر گلی، محلے، قصبے اور گاؤں تک پہنچے۔ ایک عام اور غریب آدمی کو ریلیف ملے۔
خواب دیکھنے پر کوئی پابندی نہیں۔ خواب وہ چراغ ہے جو اندھیری رات میں بھی انسان کو راستہ دکھاتا ہے۔ قومیں بھی خواب دیکھتی ہیں اور تاریخ گواہ ہے کہ بڑے خواب ہی بڑے سفر کا آغاز بنتے ہیں۔ ہمارا بھی ایک خواب ہے، ایسا خواب جس میں اقتدار کے ایوانوں کی بلند دیواریں ذرا نیچی ہوجائیں، حکمرانوں اور عوام کے درمیان فاصلے سمٹ جائیں اور اقتدار چند خاندانوں، بااثر طبقات اور مراعات یافتہ اشرافیہ کے ہاتھوں سے نکل کر اس عام آدمی تک بھی پہنچے جس کے ووٹ سے یہ ایوان آباد ہوتے ہیں۔ یہی دراصل کسی نئے صوبے کا خواب بھی ہے۔
نئے صوبے کی بحث کو اگر صرف زمین کی تقسیم، نئے........
