menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Bahali Suba Bahawalpur Ki Tehreek Mein Khawateen Ki Jad o Jehad

25 0
13.09.2026

بحالی صوبہ بہاولپور کی تحریک میں خواتین کی جدوجہد

تحریکیں صرف نعروں سے زندہ نہیں رہتیں، انہیں زندہ رکھنے کے لیے کچھ لوگ اپنی نیند، اپنا سکون اور کبھی کبھی اپنی پوری زندگی داؤ پر لگا دیتے ہیں۔ تاریخ کے بڑے بڑے واقعات کے پیچھے ایسے ہی خاموش کردار موجود ہوتے ہیں جن کے نام شاید کتابوں کے صفحات پر نمایاں نہ ہوں، مگر قوموں کی اجتماعی یادداشت میں ان کی جدوجہد ہمیشہ سانس لیتی رہتی ہے۔ بحالیِ صوبہ بہاولپور کی تحریک بھی ایسی ہی ایک طویل جدوجہد ہے۔ اس تحریک کی تاریخ نصف صدی سے زیادہ پر محیط ہے۔ اس سفر میں یہاں کے مردوں کے ساتھ بہاولپور کی خواتین نے بھی اپنا کردار ادا کیا۔ کبھی وہ جلسوں میں شریک ہوئیں، کبھی جلوسوں میں نکلیں اور کبھی اپنے گھروں سے باہر آکر یہ پیغام دیا کہ بہاولپور کے مستقبل کا سوال صرف مردوں کا نہیں، اس خطے کی ہر ماں، بہن اور بیٹی کا بھی سوال ہے۔

ماضی میں محترمہ طاہرہ مسعود خان مرحومہ جنہیں بنت بہاولپور کا خطاب میرے والد محترم نے دیا تھا اور محترمہ عابدہ درانی اور نوابزادی سائرہ عباسی جیسی خواتین نے جس جرأت کے ساتھ اس تحریک میں حصہ لیا، وہ اپنے عہد میں ایک غیر معمولی بات تھی۔ سماجی پابندیوں اور روایتی سوچ کے باوجود خواتین کا سڑکوں پر آکر اپنے حق کے لیے آواز بلند کرنا اس بات کی علامت تھا کہ یہ مطالبہ محض سیاست دانوں کا پیدا کردہ نہیں بلکہ عوام کے دل میں موجود ایک احساس ہے وقت گزرا، چہرے بدلتے رہے، سیاسی نقشے تبدیل ہوتے رہے، مگر بہاولپور کے صوبے کا سوال اپنی جگہ موجود رہا اور آج جب اس تحریک کی نئی آوازیں بلند ہو رہی ہیں اور نیا جذبہ ابھر رہا ہے تو اس جدوجہد میں خواتین کے کردار کو نظرانداز کرنا تاریخ کے ایک اہم باب کو نظرانداز کرنے کے مترادف ہوگا۔

اسی تسلسل میں خاص طور پر محترمہ آسیہ کامل کا نام قابلِ ذکر ہے۔ وہ بہاولپور کی ان خواتین میں شامل ہیں جنہوں نے گذشتہ سولہ سال کے طویل عرصہ سے بحالیِ صوبہ بہاولپور کے مطالبے کو وقتی سیاسی نعرہ بننے نہیں دیا۔........

© Daily Urdu (Blogs)