menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Aik Nazar Zara Idhar Bhi

24 0
17.04.2026

مجھ جیسے بلڈ پریشر، شوگر اور دل کی بیماریوں کے مریض نہایت ضروری ادویات یہاں تک کہ "انسولین" کی مہنگائی سے پریشان تو تھے ہی مگر گذشتہ دنوں میری صحت کے معاملات کافی خراب رہے۔ ڈاکٹرز نے کئی لیبارٹری ٹیسٹ اور الٹرا ساونڈ کرانے کا مشورہ دیا تاکہ تکلیف کی بنیادی وجہ جانی جا سکے تو تشخیص کے اس عمل سےگزرنا پڑا تو پتہ چلا کہ ہر لیبارٹری ٹیسٹ اور ہر الٹراساونڈ مستند نہیں ہوتا اس لیے ڈاکٹرز کی جانب سے الٹراساونڈ کے لیے اور ان ٹیسٹوں کے مخصوص ڈاکٹرز اور لیبارٹریز سے یہ ٹیسٹ کرانے کا مشورہ بھی دیا گیا۔

بڑے عرصہ بعد ان ڈکٹرز اور لیبارٹریز والوں سے واسطہ پڑا تو پتہ چلا کہ ہر ڈاکٹر، ریڈیو گرافر اور ہر لیبارٹری کی فیس مختلف ہے ایک ہی کام اور ٹیسٹ کی فیس اور ریٹ مختلف ہے۔ یہ میرا سوال نہیں بلکہ پورے معاشرے کا درد ہے کہ پاکستان میں ڈاکٹرز، لیبارٹریز اور ریڈیو گرافی کی فیسیں واقعی عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہو چکی ہیں۔

مجھے اس دوران پتہ چلا کہ الٹراساونڈ کی فیس تقریباََ پندرہ سو سے شروع ہوکر پانچ ہزار تک یا اس سے بھی زیادہ لی جاتی ہے جبکہ خاص اور جدید ٹیسٹ بھی ہر لیب پر مختلف ہیں یعنی ایک عام مریض اگر دو چار ٹیسٹ کروائے تو آٹھ ہزار سے پندرہ ہزار تک اخراجات تو معمولی بات ہے۔ اس دوران میں نے اندازہ لگایا کہ صحت اب شاید خدمت نہیں بلکہ کاروبار بنتی جا رہی ہے۔ پرائیویٹ سیکٹر کی حکمرانی ہے۔ برانڈز کا دور ہے لیباڑٹری کے رزلٹ سے زیادہ اس کا نام دیکھا جاتا ہے۔........

© Daily Urdu (Blogs)