Sarhad University Saniha
اساتذہ کرام معاشرے میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ حال ہی میں سرحد یونیورسٹی میں ایک خاتون ٹیچر (ڈاکٹر عینا)کے ساتھ طلبہ کے ہجوم نے بدتمیزی کی۔ انتہائی افسوس ناک بات ہے کہ خواتین اساتذہ تو ماں کا درجہ رکھتی ہیں، ان کے طلبہ ہی اگر جسمانی ہراسمنٹ پر اتر آتے ہیں تو پھر ہمیں ایسی نوجوان نسل پر انا للہ وانا الیہ راجعون پڑھ لینا چاہئیے۔ وہ خاتون ٹیچر جیسے اتنے مرد طلبہ میں گھری ہوئی اور خوف زدہ نظر آرہی ہے، ایک لمحہ کے لئے دل پر ہاتھ رکھ کر سوچیں کہ وہاں ہماری بہن، بیٹی یا ماں ہو تو ہمارا ردعمل کیا ہوگا؟ اگر طالب علم اپنی ٹیچر کو دھکے مار رہے اور زمین پر گرا رہے ہیں تو ایسی حالت میں وہ اپنے شوہر کو ہی پکارے گی اور کیا چارہ ہے اس کے پاس اپنی عزت کی حفاظت کا؟
سلام ہے اس شوہر........
