menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Pakistan Sirf Ashrafia Ur Unke Bachon Ke Liye Hai

30 0
20.03.2026

پاکستان صرف اشرافیہ اور ان کے بچوں کے لیے ہے

کہتے ہیں کہ بندے کے اپنے حالات بہتر ہوں تو وہ معاشرتی مسائل سے بیگانہ ہونے لگتا ہے۔ میرے ساتھ بھی شاید ایسا ہی ہوا ہے، جب سے معاشی حالات بہتر ہوئے ہیں تو دوسروں کا درد، دکھ اور ان کی تکالیف کا احساس کم ہوتا جا رہا ہے۔ یا ہو سکتا ہے کہ میری نفسیات کے پیچھے یہ بھی ہو کہ انہی غموں، فکروں اور مسائل سے بھاگ کر تو جرمنی آئے تھے۔ شاید لاشعوری طور پر میرے ذہن میں تھا کہ ان مسائل سے جان چھڑانی ہے۔

ایسی ہی سوچ کئی برس پہلے ایک مرتبہ بس کے ساتھ لٹکے ہوئے آئی تھی۔ نوشہرہ ورکاں سے گوجرانوالہ جانا تھا، پیسے کم تھے تو بطور اسٹوڈنٹ یہی سوچا کہ بس سے لٹک کر جاتے ہیں، دو چار روپے کرایے میں گوجرانوالہ پہنچ جاؤں گا۔ اُس وقت ابھی ایک روز پہلے ہی میں نے اخبار میں پڑھا تھا کہ بلاول بھٹو تعلیم حاصل کرنے کے لیے لندن چلے گئے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی یہ بھی پڑھا تھا کہ بلاول مستقبل کے لیڈر ہیں اور ایک دن ملک کی قیادت کریں گے۔

ہم روایتی طور پر مسلم لیگ نون کے ووٹر تھے تو اس وقت مسائل کی جڑ ہم پیپلز پارٹی کو ہی سمجھتے تھے۔ شاید یہ بھی ایک وجہ تھی کہ تعصب بہت زیادہ تھا۔ لیکن اس دن بس سے لٹکے لٹکے، جو سوچ آئی تھی، وہ یہ تھی کہ بلاول کو کیسے پتا چلے گا میرے مسائل کیا ہیں، ایک غریب طالب علم کے مسائل کیا ہیں، گرمیوں میں صبح سویرے ناشتے کے بغیر گاؤں سے نکلنا اور تپتی دوپہر میں بسوں کے اڈوں پر کھڑے ہونا، پینتالیس سینٹی گریڈ میں تارکول کی سڑکوں پر گردو غبار اور دھواں پھانکنا اور ہر آتی جاتی بس یا ٹیوٹے کو ہاتھ دے کر روکنا کس قدر اذیت ناک ہے؟

اس وقت سوچ محدود تھی، ٹھنڈے پانی کے حصول، ایک آئس کریم کھانے، لکھنے کے لیے ایک ڈائری خریدنے اور اس کے لیے پیسے جوڑنے تک ہی محدود تھی۔ بس کی چھت پر بیٹھے بیٹھے میں یہی سوچتا رہا کہ یہ امیر لوگ، جو اسمبلیوں میں جاتے ہیں، جو ہماری قسمت کے فیصلے کرتے ہیں، جنہوں نے ہمارے دکھوں کا مداوا کرنا ہے، یہ میرے مسائل اور میرے غموں کی شدت کو کیسے سمجھ پائیں گے؟

سوچیں محدود تھیں، میں کافی دیر سوچتا رہا تھا کہ اچھا پین خریدنے کی خوشی، کتابوں کے لیے پیسے،........

© Daily Urdu (Blogs)