menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Idara e Yadgar e Ghalib (2)

19 0
27.09.2026

ادارہ یادگار غالبؔ (2)

"ادارہ یادگار غالب" 1968ءسے 1984ءتک اپنے تشکیلی دور میں رہا۔ 1975ءتک مرزا ظفر الحسن نے پچاس سے زائد علمی، ادبی اور ثقافتی تقریبات منعقد کروائیں۔ جن میں مرزا غالبؔ کی صد سالہ برسی، دو ادبی اجلاس، کتابوں اور تصاویر کی دو نمائش، کل پاکستان محفل موسیقی اور کل پاکستان مشاعرہ شامل ہے چودہ کتابیں شائع کیں۔ جن میں پنجابی، سندھی، پشتو، بلوچی اور بنگلہ سے کیے گئے اردو تراجم شامل ہیں۔ اس کے علاوہ اسی دور میں غالبؔ پینسل اور غالبؔ کیلنڈر بھی جاری کیے۔

1984ءمیں مرزا ظفر الحسن کے انتقال کے بعد اس ادارے کا انتظام مجلس منتظمہ نے سنبھالا۔ اس دور میں "ادارہ یادگار غالب" کے تمام معاملات مشفق خواجہ کی نگرانی میں انجام پاتے تھے۔ 21 فروری 2005ءکو مشفق خواجہ کے انتقال کے بعد اس ادارے کا تیسرا دور شروع ہوتا ہے۔ مشفق خواجہ نے اپنے دور میں علمی اور اشاعتی منصوبوں میں خصوصی دلچسپی لی۔ کتابوں کے انتخاب اور ترتیب و اشاعت میں بڑی جانفشانی سے کام لیا۔ ان کے کئی زیر تکمیل منصوبے ان کے انتقال کے بعد پایۂ تکمیل تک پہنچے۔

"غالب لائبریری" کی عمارت کے حوالے سے یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ شہر کے بیچ و بیچ زمین کے حصول میں مرزا ظفر الحسن اور فیض احمد فیضؔ نے اہم کردار ادا کیا۔ مرزا ظفر الحسن، فیض احمد فیضؔ کے ساتھ ایک وفد نے بلدیہ عظمیٰ کراچی کے سربراہ ابرار حسن خان سے ملاقات کرکے ناظم آباد میں فارمین کالج کے برابر میں زمین مختص کروائی۔ جس پر تعمیراتی کام حبیب بینک کے کنٹرولر آف برانچز آل علی صاحب کی نگرانی میں شروع ہوا۔ دسمبر 1969ءتک اس دو منزلہ عمارت کا بڑا حصہ مکمل ہوگیا تھا۔

عمارت کی تکمیل سے قبل ہی اس جگہ حبیب ولی محمد کی محفل موسیقی منعقد ہوئی جس میں شرکت کی شرط یہ تھی کہ ہر شخص اپنے ساتھ "غالبؔ لائبریری" کے لیے کتابیں لائے گا۔ اس موقع پر بے شمار نادر و نایاب کتب جمع ہوئیں۔ تقریب میں اسٹیٹ بینک کے سابق گورنر شجاعت علی حسینی مرحوم کی بیگم نے سو سے زائد قیمتی کتابیں غالبؔ لائبریری کو عطیہ کیں۔ مرزا ظفر الحسن نے "غالب لائبریری" کے لیے ہر ایک کے آگے دستِ سوال دراز کیا کہ غالبؔ کے نام پر ایک کتاب دے دو۔

غالبؔ کے نام پر ایک کتاب دے دو۔ لوگوں نے دل کھول کر کتابیں عطیہ کیں۔ حتیٰ کہ ان کتابوں میں بچوں کی نصابی کتابیں بھی چلی آئیں۔ جنھیں مرزا ظفر الحسن کافی عرصے تک........

© Daily Urdu (Blogs)