menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Tuloo e Aftab e Risalat

10 0
latest

رات کی تاریکی ابھی پوری طرح چھٹی نہ تھی۔ مکہ کی خاموش گلیوں پر سکوت کی چادر تنی ہوئی تھی، آسمان پر ستارے اپنی مدھم روشنی بکھیر رہے تھے اور دور کہیں صحرائی ہواؤں کی سرسراہٹ سنائی دیتی تھی۔ مگر اس خاموشی کے پردے میں تاریخ ایک عظیم انقلاب کے استقبال کی تیاری کر رہی تھی۔ انسانی معاشرہ جہالت، عصبیت، ظلم اور بے سمتی کے اندھیروں میں بھٹک رہا تھا، دلوں پر جمود تھا اور زندگی کے راستے دھندلا گئے تھے۔ ایسے میں حرا کی خلوت سے وہ صدا بلند ہوئی جس نے انسانی شعور کو صدیوں کے لیے ایک نئی سمت عطا کرنی تھی۔ یہ محض ایک آواز نہ تھی، یہ آسمان سے زمین کی طرف اترتی ہوئی ہدایت تھی، ایک ایسے آفتاب کے طلوع ہونے کی نوید تھی جس کی روشنی مکہ کی وادیوں سے نکل کر مدینہ کی گلیوں، پھر عرب کے صحراؤں اور بالآخر پوری انسانیت کے افق تک پھیلنے والی تھی۔

محمد مصطفیٰ ﷺ کی بعثت نے تاریخ کے اس لمحے کو جنم دیا جہاں انسان نے اپنے خالق کی معرفت کے ساتھ اپنی ذات، اپنے کردار اور اپنے اجتماعی وجود کا نیا مفہوم دریافت کیا۔ پھر وقت نے دیکھا کہ یہی نورِ رسالت ﷺ مدینہ کی سرزمین پر ایک ایسی تہذیب میں ڈھل گیا جس میں مسجد عبادت گاہ بھی تھی اور درس گاہ بھی، اخوت محض جذبہ نہیں بلکہ اجتماعی ذمہ داری تھی، عدل محض قانون نہیں بلکہ معاشرتی اصول تھا اور انسان کی قدر اس کے حسب و نسب سے نہیں بلکہ اس کے کردار اور تقویٰ سے متعین ہونے لگی۔ یوں طلوعِ آفتابِ رسالت ﷺ صرف ایک مقدس واقعے کا نام نہ رہا، یہ انسانی تاریخ کے اندھیروں سے روشنی، انتشار سے وحدت اور بے سمتی سے شعور کی طرف ایک ایسے سفر کا آغاز بن گیا جس کی معنویت آج بھی مدینہ منورہ کی فضاؤں میں محسوس کی جا سکتی ہے۔

مدینہ منورہ کا ذکر آتے ہی تاریخ کا ایک ایسا باب نگاہوں کے سامنے کھل جاتا ہے جہاں انسانی تہذیب نے ایک نئی کروٹ لی، جہاں وحی نے فکر کو سمت عطا کی، جہاں ایمان نے کردار کی صورت اختیار کی اور جہاں ایک منتشر معاشرہ اخوت، عدل، ذمہ داری اور اخلاق کی بنیادوں پر ایک نئی اجتماعی وحدت میں ڈھلنے لگا۔ مدینہ محض ایک مقدس شہر نہیں، یہ اس عظیم انقلابِ فکر و عمل کی علامت ہے جس کی بنیاد رسولِ اکرم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ نے اپنے اسوۂ حسنہ سے رکھی۔ اس شہر کی مٹی میں تاریخ کی وہ خوشبو بسی ہوئی ہے جس میں ہجرت کی استقامت، مواخات کی محبت، مسجدِ نبوی ﷺ کی علمی و روحانی روشنی، میثاقِ مدینہ کی اجتماعی بصیرت اور سیرتِ طیبہ کے اخلاقی اصول ایک دوسرے میں مدغم دکھائی دیتے ہیں۔ مدینہ کی طرف اٹھنے والی نگاہ دراصل اس عہد کی طرف لوٹتی ہے جب رسالتِ محمدی ﷺ کے آفتاب نے انسانی تاریخ کے افق پر طلوع ہو کر فکر، اخلاق، معاشرت اور تہذیب کے پیمانے بدل دیے تھے۔

طلوعِ آفتابِ رسالت ﷺ محض ایک مذہبی واقعے کی تعبیر نہیں بلکہ انسانی شعور کی اس بیداری کا استعارہ ہے جس نے انسان کو اس کی حقیقی قدر و منزلت سے آشنا کیا۔ رسولِ اکرم ﷺ کی بعثت ایسے ماحول میں ہوئی جہاں قبائلی عصبیت، نسبی تفاخر، طبقاتی تفاوت اور طاقت کے غیر منصفانہ استعمال نے انسانی رشتوں کو کمزور کر دیا تھا۔ ایسے میں توحید کا پیغام صرف عقیدے کی اصلاح نہیں تھا بلکہ انسانی شخصیت کی ازسرِنو تعمیر کا اعلان بھی تھا۔ آپ ﷺ نے انسان کو بتایا کہ اس کی اصل قدر نہ رنگ میں ہے، نہ نسل میں، نہ دولت میں اور نہ قبیلے کی قوت میں، انسان کی عظمت اس کے کردار، تقویٰ، امانت اور عمل سے متعین ہوتی ہے۔ یوں رسالتِ محمدی ﷺ نے انسانی مساوات، عدل، رحم، صداقت اور ذمہ داری کو محض اخلاقی نصیحتوں کے طور پر پیش نہیں کیا بلکہ انہیں اجتماعی زندگی کی بنیاد بنانے کا عملی نمونہ فراہم کیا۔

قرآنِ مجید نے رسولِ اکرم ﷺ کی بعثت کو تمام جہانوں کے لیے رحمت سے تعبیر کیا۔ یہ تعبیر رسالتِ محمدی ﷺ کے آفاقی مزاج کو نمایاں کرتی ہے۔ آپ ﷺ کی دعوت کسی مخصوص خطے، نسل یا طبقے تک محدود نہ تھی بلکہ اس کا مخاطب انسان بحیثیت انسان تھا۔ یہی آفاقیت سیرتِ نبوی ﷺ کو تاریخ کے کسی ایک عہد کی دستاویز نہیں رہنے دیتی بلکہ اسے ہر زمانے کے انسانی مسائل سے مکالمے کی صلاحیت عطا کرتی ہے۔ آپ ﷺ نے جس معاشرتی تصور کو عملی شکل دی، اس میں فرد کی روحانی اصلاح کے ساتھ اس کے اجتماعی کردار کو بھی بنیادی اہمیت حاصل تھی۔ عبادت انسان کو اپنے رب سے جوڑتی تھی تو معاملات اسے انسانوں کے حقوق کا پابند بناتے تھے، علم ذہن کو روشن کرتا تھا تو اخلاق اس روشنی کو کردار میں منتقل کرتے تھے، اختیار کو قوت........

© Daily Urdu (Blogs)