Jab Kalma e Haq Baghawat Thehra
جب کلمۂ حق بغاوت ٹھہرا
رات اپنی پوری تاریکی کے ساتھ شہر پر جھکی ہوئی تھی۔ بارش ابھی تھمی تھی اور سڑکوں پر پانی کے چھوٹے چھوٹے تالاب شہر کی شکستہ روشنیوں کو اپنے اندر قید کیے ہوئے تھے۔ دور کہیں کتوں کے بھونکنے کی آوازیں سنائی دیتی تھیں اور پھر خاموشی ہر آواز کو نگل لیتی تھی۔ ایک نوجوان پل کے کنارے کھڑا نیچے بہتے گندلے پانی کو دیکھ رہا تھا۔ اس کے ہاتھ میں موبائل فون تھا جس پر مسلسل خبریں چل رہی تھیں، کہیں ظلم، کہیں جنگ، کہیں بھوک، کہیں مذہب کے نام پر نفرت، کہیں طاقت کے نام پر انسانیت کی تذلیل۔ وہ دیر تک اس اسکرین کو دیکھتا رہا، پھر اچانک اس نے موبائل بند کر دیا۔ شاید وہ سچائی سے تھک چکا تھا یا شاید اس میں سچائی کو بدلنے کی ہمت باقی نہ رہی تھی۔
اسی پل کے قریب ایک درویش بیٹھا تھا۔ اس کے کپڑے بھیگے ہوئے تھے مگر اس کی آنکھوں میں عجیب سکون تھا۔ نوجوان اس کے قریب آیا اور بے اختیار پوچھ بیٹھا: "بابا! یہ دنیا اتنی خاموش کیوں ہے؟ لوگ ظلم دیکھ کر بولتے کیوں نہیں؟"
درویش نے مسکرا کر آسمان کی طرف دیکھا اور کہا: "بیٹا! جب معاشرے اپنے ضمیر بیچ دیتے ہیں تو آوازیں باقی نہیں رہتیں، صرف تماشے رہ جاتے ہیں۔ پھر لوگ حق کے ساتھ کھڑے ہونے کے بجائے محفوظ رہنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جب ہر شہر میں ایک نیا یزید پیدا ہوتا ہے اور ہر دور اپنے حسینؑ کو تلاش کرنے لگتا ہے"۔
یہ سن کر نوجوان خاموش ہوگیا۔ اس خاموشی میں صدیوں کی تھکن، خوف اور شکست کی بازگشت تھی۔ یہی ہمارے عہد کی سب سے بڑی المیہ حقیقت ہے کہ ہم یاد تو بہت کرتے ہیں مگر سیکھتے کم ہیں۔ ہم مجالس سجاتے ہیں، جلوس نکالتے ہیں، نوحے پڑھتے ہیں، مگر جب حق بولنے کا وقت آتا ہے تو ہماری زبانیں مصلحت کی زنجیروں میں جکڑ جاتی ہیں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں واصف علی واصف کا جملہ پوری شدت کے ساتھ ہمارے سامنے آ کھڑا ہوتا ہے کہ "اگر تم کلمۂ حق نہیں کہنا چاہتے اور صرف یادیں منانا چاہتے ہو تو تم امام حسینؑ کے دشمن ہو"۔
یہ جملہ محض ایک صوفیانہ قول نہیں بلکہ عصر حاضر کے انسان کے لیے آئینہ ہے۔ اس آئینے میں ہم اپنی اجتماعی منافقت، خوف، بزدلی اور خاموشی کو واضح دیکھ سکتے ہیں۔ محرم ہمیں صرف گریہ نہیں سکھاتا بلکہ شعور دیتا ہے۔ کربلا ہمیں صرف جذبات نہیں دیتی بلکہ کردار عطا کرتی ہے۔ امام حسینؑ کا اصل پیغام یہی ہے کہ انسان حق پر قائم رہے، چاہے اس کے مقابل پوری دنیا کیوں نہ کھڑی ہو جائے۔
تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ کربلا تلواروں کی جنگ........
