menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Shikwa: Allama Iqbal Ki Nazm Ka Mukhtasar Taruf (2)

16 0
wednesday

شکوہ: علامہ اقبال کی نظم کا مختصر تعارف (2)

شکوہ شاکی لوگوں کی ترجمانی ہے۔ معاشرے کے اس احساس کو زبان دینے کا نام شکوہ ہے۔ اگر اس نظم کا نفسیاتی تجزیہ کریں تویہ معلوم ہوتا ہے کہ اس سے معاشرے کا ایک کتھارس ہورہا ہے۔ میں جب غم میں ڈوبا ہوا ہوں اور میری عجیب حالت ہے تو اس وقت مجھے موقع دیا جائے کہ میں اپنے دل کا غبار بغیر کسی لگی لپٹی کے بیان کرسکوں۔ تاکہ میں سب کچھ اپنے دل سے باہر نکال سکوں اور اس عمل کے بعد ہلکا محسوس کروں۔ یہ اس شاکی کی تھیراپی کا سامان بھی کرے اور اسے ہم معاشرے کے ڈ سلپن آف کلیکٹیوتھیراپی کا نام دے سکتے ہیں۔ یعنی اس نظم سے لوگوں کو لگتا ہے کہ انکی جراحت قلبی کا تجربہ ہو رہا ہے۔ اس کے بعد جواب شکوہ میں اقبال معاشرے کی راہنمائی کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔

کتھارس ہی تو ہے کہ مریض بیمار ہونے کے بعد درد اور پریشانی کی وجہ سے چیخنا اور چلانا چاہے اسے اظہار کا موقع دیا جائے تاکہ وہ یہ جان لے کہ حکیم نے اسکی اندرونی کیفیت اور پریشانی کو سمجھ لیا ہے۔ اب دل کا حال جان لینے کے بعد اس کو شفایاب کردیا جائے۔ لیکن کونسلنگ یا مشاورت میں میں حکیم کو اس چیز سے کوئی غرض نہیں کہ کن راہوں پر چلنے کے نتیجے میں مریض کا یہ حال ہوا ہے۔ منزل اورراستوں کا انتخاب اس میں اہم نہیں۔ جب کہ مینٹرنگ وہ راہنمائی ہے جس میں حکیم کو بیمار کا ہاتھ پکڑ کر منزل اور راستوں کے انتخاب میں بھی معاونت کرنا پڑتی ہے۔

پست کو بالا کردے کی ترکیب اور آگہی ایک راہنما ہی کر سکتا ہے۔ اس شاعرانہ روایت میں وہ تالیف قلب بھی کر رہے ہیں اور اصلاح قلب کا سامان بھی کر رہے ہیں۔ ان نظموں میں شاعر حکیم بن کر دکھا رہا ہے۔ یہاں شاکی کو سنا بھی گیا اور سمجھا بھی گیا کا احساس شکوہ میں واضح طور پر نظر آ رہا ہے۔ جس سے شاکی کا اضطراب کم ہو جاتا ہے اور اسے تھوڑا سا سکون مل جاتا ہے پھر جیسے شاکی کے درد و دل کو زبان مل گئی۔ اقبال کے کلام میں یہ عنصر نمایاں ہے۔ جس سے انہیں شاکی کا اعتماد حاصل ہواہے۔ اس کے نتیجے میں شاکی کا افق وسیع ہوا ہے اور اس کی ملی اوراجتماعی غیرت کی حس بیدار ہوئی ہے۔ شاکی کی شکایتوں کی منطقی کمزوریوں سے آگاہ کیا ہے۔ پھر ایمان کی بنیاد پران شکایتوں کی خامیوں کو اجاگر کیا ہے۔ یعنی پہلے گلے لگایا پھرآیئنہ دکھایا اور پھر طمانچہ لگایا۔ بقول غالب۔

کتنے شیریں ہیں تیرے لب کہ رقیب گالیاں کھا کے بے مزہ نہ ہوا

اس نظم میں یہ بات بہت خوبصورتی سے کہی جا رہی ہے۔ اس کی یہ بھی خاصیت ہے اس کا عروج جواب شکوہ میں نظر آتا ہے کی اللہ نے اس شکایت کو کیسے شرف قبولیت بخشا۔ اس میں دل بھی ہے۔ دلاسہ بھی ہے اور دھمک بھی ہے۔ اس پیغام کی جھلک آپ اقبال کی آخری دورکے کلام (ارمغان حجاز اور ساقی نامہ) میں........

© Daily Urdu (Blogs)