menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Zouq, Shoq Aur Tajasus Zindagi Ka Endhan

21 0
26.10.2026

ذوق، شوق اور تجسس زندگی کا ایندھن ہیں

کوئی مسافر جب انجان افق کی تلاش میں گھر بار اور دامنِ راحت کو خیرباد کہتا ہے اور کوئی محقق جب اندھیرے غاروں سے نکل کر روشنی کی تلاش میں اپنی پوری عمر نثار کر دیتا ہے تو دراصل یہ سب اسی اندرونی آگ کا اعجاز ہوتا ہے جسے ہم ذوق، شوق اور تجسس کے نام سے جانتے ہیں۔ ذوق، شوق اور تجسس محض تفریح طبع کے سامان نہیں، بلکہ یہ کائنات کے اس تلاطم خیز سمندر میں زندگی کی کشتی کے لیے وہ بنیادی ایندھن ہیں جن کے بغیر انسانی وجود محض سانس لینے اور بستی بسانے تک محدود ہو کر رہ جاتا ہے۔

اگر غور کیا جائے تو انسانی تاریخ کا ہر ورق، ہر باب اور ہر تہذیبی ارتقا دراصل اسی تجسس اور شوق کی داستان ہے۔ اگر کائنات کی ابتدا سے لے کر آج تک کے سفر پر نگاہ ڈالی جائے، تو یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ اگر انسان کے پاس ذوق نہ ہوتا، تو وہ بھی دیگر حیوانات کی طرح محض حیات کی بقا کی جنگ لڑتا، درختوں کے پتے چباتا، غاروں میں دن کاٹتا اور پیٹ بھرنے کو ہی کل کائنات سمجھ بیٹھتا۔ مگر ذوق نے انسان کو یہ صلاحیت بخشی کہ وہ صرف موجود نہ رہے بلکہ محسوس بھی کرے۔ ذوق نے پتھروں سے چنگاریاں نکالیں، کچی مٹی کو سجا کر فنونِ لطیفہ کے شاہکار تخلیق کیے، خاموش سناٹوں کو شاعری اور تال میں ڈھالا اور طشتِ فلک پر بیٹھ کر ستاروں کی چالوں کو پڑھنے کا ہنر سکھایا۔ شوق وہ تپش ہے جو انسان کو ایک جگہ جمنے نہیں دیتی اور تجسس وہ مسلسل سوالیہ نشان ہے جو عقلِ انسانی کو کبھی تھکنے نہیں دیتا۔ یہ وہی اندرونی اضطراب ہے جس نے صدیوں پہلے انسان کو اپنی جھونپڑی سے باہر نکلنے پر مجبور کیا۔ جب اس نے دیکھا کہ پہاڑوں کے اس پار کیا ہے، سمندر کے اس کنارے کون سی دنیا بستی ہے، تو اس کے قدم رک نہ سکے۔

تاریخ کے اوراق پلٹیں تو ہمیں ابنِ بطوطہ اور مارکو پولو جیسے سیاحوں کے تذکرے ملتے ہیں جنہوں نے محض سیرو تفریح کے لیے نہیں بلکہ اسی شدید تجسس اور........

© Daily Urdu (Blogs)