Ye Maa Har Ghar Mein Dekhi
یہ ماں ہر گھر میں دیکھی
جب میں بچہ تھا تو میں نے ہر گھر میں یہی عورت دیکھی۔ نام تو مختلف تھے مگر کام ایک جیسے تھے۔ محبت کے ب کو ساری زندگی ن (محنت) کرتی یہ مائیں جواب میں بھی آپ کی صحت و سلامتی مانگتی ہیں۔ آپ کو دیکھ کر خوش ہونا چاہتی ہیں۔ کچھ دیر باتیں کرنا چاہتی ہیں۔ بیٹھ جایا کریں۔ تازہ دم ہو کر اٹھیں گے۔ جب ہر طرف منافقت، نفرت اور مطلب پرستی کی کاربن ڈائی آکسائیڈ آپ کے جسم و روح کو اندر ہی اندر آلودہ کر رہی ہو تو آزردہ نہ یوں۔ ماں سے ملنا تازہ آکسیجن سے بھی بڑھ کر ہے۔
میں نے تو اسے اپنے سے پہلے ہی اٹھا دیکھا۔ اٹھتے ہی سیدھے باورچی خانے میں جاتی۔ چولھا جلاتی، آٹا گوندھنی، پراٹھے بناتی، اس دوران کسی بچے کو اسکول کی پینٹ شرٹ پہنا رہی ہوتی تو چند ماہ کے شیر خوار بچے کی آواز پر دوڑتی، جلدی جلدی اس کا نہالچہ تبدیل کرتی اور پھر اسکول جانے والے بچے کو کپڑے پہنانے لگتی۔ ابھی بچے اسکول گئے ہی ہوتے کہ شوہر کی آواز آتی: چائے۔ اس میں تاخیر کی کوئی صورت نہ ہوتی کیونکہ صاحب اخبار کی سرخیاں چائے کی چسکیوں کے ساتھ پڑھا کرتے۔ ناشتے سے پہلے ہی کپڑے استری کر دیا کرتی، جوتے پالش کر دیتی۔ اگر کبھی کچھ انیس بیس ہوتا تو سننے کو بھی مل جاتا۔
اس نے ابھی تک منہ بھی نہ دھویا ہوتا، چائے پینا تو بہت دور کی بات ہے۔ اس نے تو بس صبح ہوتے ہی مشین کی طرح کام میں لگ جانا تھا جس کی طبیعت خراب ہوتی ہے اور نہ موڈ۔ وہ ایک ایسی مشین تھی کہ جو سب کا موڈ دیکھتی اور سمجھتی لیکن کوئی اس کے لیے یہ سب نہ سوچتا۔
سب چلے جاتے تو پھر وہ دانت مانجھتی، منہ دھوتی اور رات کی روٹی سے ہی دو لقمے اتار لیا کرتی۔ اس دوران شیر خوار بچے کو بھی بار بار دیکھتی رہتی۔ دودھ پلاتی، اسے دیوانہ وار پیار کرتی تو لگتا کہ وہ مشین نہیں ایک جیتا جاگتا، جذبات سے لبریز انسان ہے۔ دوپہر ہونے سے پہلے وہ کھانے کی فکر میں لگ جاتی۔ گلی میں سبزی........
