Main Ne Jannat To Nahi Dekhi Hai Maa Dekhi Hai
میں نے جنت تو نہیں دیکھی ہے ماں دیکھی ہے
ماں جیسے عظیم و مقدس رشتے کو آپ کسی شہر، قصبے یا گاوں میں نہیں بانٹ سکتے۔ ماں تو اول و آخر ماں ہے۔ اولاد کے لیے سعی (کوشش) اس کی سرشت میں ہے۔ ماں جیسا کوئی ہے نہ ہو سکتا ہے۔ پروردگار عالم نے اپنے کتنے ہی اوصاف ماں کو عطا کر دیئے ہیں۔ حد تو یہ ہے کہ مخلوق سے اپنی محبت کا پیمانہ بھی ماں کو بنایا ہے۔ پروردگار عالم ستر ماوں سے زیادہ ہم سے محبت کرتے ہیں۔
انسان کے تمام اچھے اعمال کے نتیجے میں ملنے والے صلے "جنت" کو ماں کے پیروں تلے رکھ دیا گیا۔ پروردگار چاھتا تو پیروں کے اوپر رکھ دیتا۔ ہاتھ یا ماتھے پر رکھ دیتا۔ پرودگار نے اولاد کو ماں کا مقام بتا دیا۔ وہ جنت جس کے لئے تم لاکھ جتن کرتے ہو۔ وہ ماں کے پیروں کے نیچے ہے۔ جنت حاصل کرنا کتنا مشکل تھا اگر ماں نہ ہوتی۔
ماں پر بہت لکھا گیا ہے اور جتنا لکھا گیا ہے اتنا ہی کم لکھا گیا ہے۔ ماں پر بڑھاپا آجائے تو اس کا مزاج بچوں جیسا ہو جاتا ہے۔ ایک ایک بات کو بار بار دھرانا۔ کسی ایک بات ہر بتائے بغیر خفا ہوجانا۔ ہر بات میں جلدی کرنا۔ بیٹھے بیٹھے اداس یا خوش ہوجانا، اپنی کہی بات کہہ کر بھول جانا اور اس ہر یہ کہنا کہ میں بھولتی کچھ نہیں، ہزار بار کے سنائے قصے سنانا۔ خاندان اور محلے میں کسی کا انتقال یو جائے تو اس غمگین........
