Bhool Kar Deti Nahi Gali Shareefon Ki Zuban
بھول کر دیتی نہیں گالی شریفوں کی زباں
ہمارے معاشرے میں چائے اور گل افشانی (گالی) کا چلن اتنا عام یو چکا ہے کہ اگر کوئی ان کا خوگر نہ ہو تو اس کے چال چلن پر شبہ کیا جاتا ہے۔ چائے اور گل افشانی معاشرے میں اس حد تک راسخ ہو چکے ہیں کہ اب ان پر خط تنسیخ نہی کھینچا جا سکتا۔ ان کے بغیر نہ بات بنتی ہے نہ جمتی ہے۔
چھٹتی نہیں ہیں منہ سے یہ کافر لگی ہوئی
اب لوگ باگ گفتگو میں اس روانی سے گل افشانی کر جاتے ہیں کہ اس کے بغیر جملہ نامکمل لگتا ہے۔ میں نے چند ایک کے علاوہ بلا لحاظ عمر سب کو غصے اور خوشی یا بس یونہی گل افشانی کرتا دیکھا ہے۔ کچھ تو گل افشانی کرتے اتنے اچھے اور سچے لگتے ییں کہ:
وہ کہیں اور سنا کرے کوئی
ہمارے ایک محلے دار ہیں چھمن بھائی۔ لوگ ان سے گل افشانی سننے ایسے آتے ہیں جیسے کوئی مشہور نہاری کھانے جا رہے ہوں۔ چھمن بھائی کا پہلے تعارف کرادوں۔ صحت قابل شک ہے۔ ناف سے ذرا نیچے تک بنیان اور اس کے بعد گھنٹوں سے ذرا نیچے تک سوتی کپڑے کی دھاری دار نیکر پہنتے ہیں۔ عام گفتگو میں بہت پیار سے گل افشانی کا بے تحاشا اور با تماشا استعمال کرتے ہیں۔ مزاج برہم ہوں تو چھمن اللغات کھول لیتے ہیں۔ ندرت خیال اور قدرت کلام کے حسین امتزاج سے وہ وہ شاہکار آشکار کرتے ہیں کہ آپ لوٹ پوٹ اور جس کو دی جائیں وہ ہاٹ پاٹ ہو جائے۔ گل افشانی کی وہ وہ لڑیاں پروتے ہیں کہ سامنے والے کو ہار پہنا کر ہی دم لیتے ہیں۔
ایک دن موقع غنیمت جان کر اس عطا کی وجہ پوچھا بیٹھا۔ موڈ میں تھے، بولے: ابا میاں کو دعائیں دو، سکھا گئے۔ میں نے کہا ابا میاں؟ ناراض ہو گئے، بولے: بھائی کہا ناں یہ گل افشانی ہے اور یہ تو ہمارے ابا کا گل تکیہ تھا۔ حس دن گل افشانی نہ ہو سمجھو موڈ آف ہے یا طبیعت خراب۔ اماں کہا کرتی تھیں تمھارے باوا جس دن اول فول نہ بکیں، سمجھو کوئی بات بری لگی ہے۔ ایک مرتبہ دو دن تک گل افشانی نہ کی۔ اماں تو پریشان ہوگئیں۔ مجھ سے بولیں: جا چھمن کسی ڈاکٹر کو دکھا لا۔ مجھے تو لگے ہے........
