Aye Nihari Tere Chakkar Mein Kahan Kahan Na Gaye
اے نہاری تیرے چکر میں کہاں کہاں نہ گئے
نہاری سے پہلا رابطہ بچپن میں پہلی چورنگی ناظم آباد کی کیفے ذائقہ کی نہاری سے ہوا۔ گھر اور اسکول دونوں اس کے قریب تھے۔ گھر والے نہاری مانگتے تو دوڑے چلے جاتے۔ یہاں اصلی گھی کا ٹکڑا لگایا جاتا تھا جس کی اشتہا انگیز خوشبو ناک سے اتر کر پیٹ کو دیوانہ کر دیتی۔
فیڈرل بی ایریا واٹر پمپ پر جہاں اب للی بینکوئٹ ہے وہاں کیفے گلستان ہوا کرتا تھا۔ اس کی نہاری کا مزا بھی یاد رہے گا۔ جیب میں پیسے نہ ہوتے تو کسی کو گھیر گھار کر وہاں لے جاتے۔ صفدر مرزا اس وقت ملازمت پر تھے۔ سو جیب ان کی اور پیٹ ہمارا ہوتا لیکن سننی بہت پڑتی تھیں۔ عام طور پر ویک اینڈ پر مغرب کے بعد صفدر مرزا کو گھیرنے کا آغاز ہوتا ہے اور تقریباََ ایک گھنٹے کی زبردست بے عزتی کے بعد کیفے گلستان پہنچ جاتے۔ وہاں کی ایک خاص بات یہ تھی کہ لیموں کے ٹکڑے ہر وقت ہر میز پر پلیٹ میں رکھے ہوا کرتے تھے جو اس زمانے میں عام طور پر اس........
