Aurat Ka Koi Ghar Nahi Hota
عورت کا کوئی گھر نہیں ہوتا
کبھی ایک جملہ اتنا عام ہو جاتا ہے کہ ہم اسے حقیقت سمجھ کر قبول کر لیتے ہیں، حالانکہ اس کے پیچھے چھپی حقیقت پر غور کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ ایسا ہی ایک جملہ ہے: "عورت کا کوئی گھر نہیں ہوتا"۔
یہ جملہ ہم بچپن سے سنتے آ رہے ہیں۔ بیٹی کو بتایا جاتا ہے کہ یہ اس کا عارضی گھر ہے، اصل گھر تو شادی کے بعد ہوگا۔ پھر شادی ہوتی ہے تو اسے نئے گھر میں اپنی جگہ بنانے، رشتوں کو سمجھنے اور سب کے مزاج کے مطابق خود کو ڈھالنے کی توقعات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ایسے میں ایک سوال پیدا ہوتا ہے: کیا واقعی عورت کا کوئی گھر نہیں ہوتا، یا ہم نے گھر کی تعریف ہی محدود کر دی ہے؟
میرے نزدیک گھر صرف اینٹوں، سیمنٹ، دروازوں اور چھت کا نام نہیں۔ گھر وہ جگہ ہے جہاں انسان خود کو محفوظ محسوس کرے، جہاں اس کی عزت محفوظ ہو، ہر وقت جہاں وہ سکون کا سانس لے سکے۔
ذرا ایک لمحے کے لیے سوچیے! جس گھر میں آپ رات کو لیٹیں اور کسی بے خوف، بے یقینی یا اگلے لمحے کی پریشانی کے بغیر گہری نیند میں سو سکیں، جہاں آپ کی نیند کے مختلف مراحل مکمل ہوں، جسم آرام کرے اور صبح آپ خود کو نسبتاً تازہ دم محسوس کریں، کیا وہ جگہ آپ کے لیے گھر نہیں؟ نیند محض آنکھیں بند کرنے کا نام نہیں، یہ جسم اور دماغ کی بحالی کے لیے ضروری ہے۔ اگر کسی جگہ انسان کا ذہن مسلسل خطرے یا پریشانی میں مبتلا رہے تو وہاں جسمانی آرام بھی متاثر ہو سکتا ہے۔
پھر وہ جگہ جہاں آپ گھر کے اندر اپنا دوپٹہ اتار کر بے........
