menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Hassas Dil Janwar, Behis Insan

17 0
yesterday

حساس دل جانور، بے حس انسان

اگر ہم فطرت کا بغور مطالعہ کریں تو بے شمار راز ہم پر اِفشا ہوتے ہیں۔ حساس دل رکھنے والے لوگ چھوٹی چھوٹی باتوں کا جائزہ لیتے ہیں اور ایک چیز کا دوسرے کے ساتھ تقابل بھی کرتے ہیں۔ اگر اپنے اردگرد نظر دوڑائیں تو ہمیں نیلا آسمان اس پر اڑتے خوبصورت پرندے نظر آتے ہیں جو ایک غول میں اڑتے ہیں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ سب ایک دوسرے کے ساتھ ہیں اگر ان میں سے ایک بھی پیچھے رہ جائے تو وہ جیسے پریشان ہو جاتے ہیں۔

جب کوئی پرندہ مر جاتا ہے تو اس کا ساتھی پرندہ اس کے اردگرد پھدکتا رہتا ہے اسے سمجھ نہیں آتی کہ وہ کیسے اس کی مدد کرے، اسی طرح کوئی جانور اگر زخمی ہو جائے تو دوسرا اس کے پاس ٹھہرتا ہے، اس کی بو سونگتا ہے جیسے محسوس کر رہا ہو کہ سانسیں چل رہی ہیں یا نہیں اور سوگ منا رہا ہو۔ ہم کئی کہانیوں میں بھی پڑھتے ہیں اور وڈیوز میں بھی دیکھتے ہیں کہ کوا، فاختہ کیسے ننھے پرندے کا خیال کرتے ہیں ان کے منہ میں اپنی چونچ سے کھانا ڈالتے ہیں۔ کیسے مرغی اپنے چوزوں کا دھیان رکھتی ہے۔ ان کے بچوں کو کوئی بری نظر سے دیکھے تو یہ اس پر حملہ آور ہو جاتے ہیں۔

بے زبان مخلوق بھی کس قدر حساس اور نرم دل ہوتی ہے جو ہم عقل و شعور والے انسانوں سے کہیں بہتر ہے۔ ہم انسان تو بے حد بے حس ہوتے ہیں بغیر مطلب کے کسی سے ملنا تو دور، بات کرنا بھی پسند نہیں کرتے۔ کوئی تکلیف میں ہو یا چاہے مر رہا ہو کھڑے ہو کر تماشا دیکھتے ہیں اور آج کے دور میں جیب سے موبائل نکال کر وڈیوز بنانا شروع کر دیتے ہیں۔ کوئی کسی کی مدد کے لیے اس خوف سے........

© Daily Urdu (Blogs)