Zindagi Ka Mafhoom
کبھی کبھی ایک ایسا سوال سامنے آ جاتا ہے جو بظاہر مختصر ہوتا ہے مگر اس کے جواب میں پوری انسانی تاریخ سمٹ آتی ہے۔ "زندگی کیا ہے؟" ایسا ہی ایک سوال ہے۔ انسان نے جب پہلی بار آسمان کی وسعت کو دیکھا ہوگا، سمندر کی گہرائی میں جھانکا ہوگا یا کسی اپنے کو مٹی کے سپرد کیا ہوگا، تب سے یہ سوال اس کے ساتھ چل رہا ہے۔ فلسفیوں نے اس پر کتابیں لکھیں، شاعروں نے نظمیں کہیں، صوفیوں نے اسے معرفت کا دروازہ قرار دیا، سائنس دانوں نے اسے ارتقا کے آئینے میں دیکھا اور مذہبی مفکرین نے اسے خالق کی امانت بتایا۔ مگر دلچسپ بات یہ ہے کہ اتنی طویل فکری روایت کے باوجود اس سوال کا کوئی ایک، آخری اور قطعی جواب آج تک سامنے نہیں آ سکا۔
شاید اسی لیے امریکی مؤرخ، فلسفی اور دانش ور ول ڈیورانٹ نے بیسویں صدی کے ابتدائی عشروں میں یہ محسوس کیا کہ اگر زندگی کے معنی کا کوئی ایک جواب نہیں تو کیوں نہ ان لوگوں سے پوچھا جائے جنہوں نے اپنی اپنی فکری دنیا میں انسانیت کی رہنمائی کی ہے۔ انہوں نے ادیبوں، فلسفیوں، سائنس دانوں، مذہبی راہنماؤں، سیاست دانوں اور فن کاروں سمیت ایک سو سے زیادہ ممتاز شخصیات کو خطوط لکھے اور ان سے دو سوال پوچھے۔ پہلا یہ کہ زندگی کا مفہوم کیا ہے؟ دوسرا یہ کہ آپ نے اپنی زندگی میں معنی، مقصد اور اطمینان کہاں پایا؟ بعد ازاں انہی جوابات کو انہوں نے ایک نہایت اہم کتاب، "زندگی کے معنی پر" کی صورت میں مرتب کیا، جو انیس سو اکتیس میں منظر عام پر آئی اور آج بھی انسانی فکر کی اہم ترین کتابوں میں شمار کی جاتی ہے۔
ول ڈیورانٹ کا یہ اقدام اپنی نوعیت میں غیر معمولی تھا۔ عام طور پر فلسفی خود جواب دیتے ہیں، مگر ڈیورانٹ نے جواب دینے کے بجائے سوال کو دنیا بھر کے ذہین ترین اذہان کے سامنے رکھ دیا۔ شاید انہیں معلوم تھا کہ زندگی اتنی وسیع حقیقت ہے کہ اسے ایک ذہن، ایک........
