menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

The Jungle

20 0
24.07.2026

کسی قوم کی عظمت صرف اس کے بلند و بالا کارخانوں، وسیع شاہراہوں اور بڑھتی ہوئی معیشت سے نہیں ناپی جاتی بلکہ اس بات سے بھی جانچی جاتی ہے کہ وہ اپنے کمزور ترین انسانوں کے ساتھ کیسا سلوک کرتی ہے۔ اگر ترقی کی چکاچوند کے پیچھے مزدور کا خون، اس کی بھوک، اس کی بیماری اور اس کی بے بسی چھپی ہو تو وہ ترقی درحقیقت ایک خوش نما دھوکا ہوتی ہے۔ یہی دھوکا بیسویں صدی کے آغاز میں امریکا میں بھی موجود تھا۔ صنعتی انقلاب اپنے عروج پر تھا، کارخانے دن رات چل رہے تھے، سرمایہ تیزی سے بڑھ رہا تھا، لیکن ان فیکٹریوں کی دیواروں کے پیچھے انسانیت کس طرح پس رہی تھی، اس کا اندازہ عام لوگوں کو نہیں تھا۔ پھر ایک ناول شائع ہوا جس نے ان دیواروں کو گویا شیشے کا بنا دیا۔ اس ناول کا نام "دا جنگل" تھا اور اس کے مصنف "اپٹن سنکلئیر" تھے۔ یہ صرف ایک ادبی تخلیق نہیں تھی بلکہ ایک ایسا آئینہ تھا جس میں امریکا نے پہلی مرتبہ اپنی صنعتی ترقی کا اصل چہرہ دیکھا۔

"اپٹن سنکلئیر" ایک ایسے ادیب تھے جو ادب کو محض تفریح کا ذریعہ نہیں بلکہ سماجی اصلاح کا ہتھیار سمجھتے تھے۔ انہوں نے مہینوں تک گوشت کی صنعت سے وابستہ مزدوروں کے درمیان رہ کر ان کی زندگیوں کا مشاہدہ کیا۔ انہوں نے دیکھا کہ تارکین وطن کس طرح معمولی اجرت پر خطرناک ماحول میں کام کرتے ہیں، بیماری، حادثات اور استحصال ان کی روزمرہ زندگی کا حصہ ہیں اور غربت انہیں اس مقام تک لے جاتی ہے جہاں زندگی اور موت میں زیادہ فرق باقی نہیں رہتا۔ انہی مشاہدات نے "دا جنگل" کو جنم دیا۔ ناول میں ایک غریب خاندان کی کہانی بیان کی گئی، مگر حقیقت میں یہ لاکھوں خاندانوں کی داستان تھی۔ قاری جب اس خاندان کے ساتھ چلتا ہے تو اسے محسوس ہوتا........

© Daily Urdu (Blogs)