Kasb e Kamal Kun: Baba Ahmund
کسبِ کمال کُن: بابا آحمُند
كسب كمال كُن كہ عزيزِ جہان شوى
كس بے كمال ہيچ نيرزد، عزيزِ من!
دیہات کے پرانے گھروں، کشادہ ویہڑوں، کچی گلیوں، کھلے کھیتوں اور مٹی کی خوشبو سے بھرپور زمانوں میں کچھ لوگ ایسے ہوتے تھے جو صرف اپنے خاندان کے بزرگ نہیں ہوتے بلکہ پورے علاقے کی یادداشت بن جاتے ہیں۔ ان کے نام کے ساتھ محبت، کشادگی، سخاوت اور اپنائیت کی ایک پوری دنیا جڑی ہوتی ہے۔ میرے دادا، "بابا آحمُند" بھی انہی لوگوں میں سے ایک تھے۔ ان کا اصل نام "احمد خان" تھا لیکن اُس عہد کی بولی، لہجے اور دیہی روایت نے انہیں "آحمُند" بنا دیا تھا۔ پرانے وقتوں میں نام صرف نام نہیں ہوتے تھے، ان میں محبت کی مٹھاس، تعلق کی گرمی اور اپنائیت کا رنگ شامل ہو جاتا تھا۔ شاید اسی لیے لوگ انہیں بڑے مان اور چاہت سے "بابا آحمُند" کہتے تھے۔
وہ "بابا پھَتہ" کے بڑے اور نہایت ہونہار بیٹے تھے۔ قسمت کی عجیب ستم ظریفی یہ رہی کہ دنیا میں میری آمد کے ساتھ ہی وہ اس دارِ فانی سے رخصت ہو گئے۔ یوں میری زندگی کے آغاز اور ان کی زندگی کے اختتام تقریباً اکٹھے اکٹھے ہوا اور ہمیں ایک ساتھ رہنے کا موقع نہ مل سکا۔ یہ احساس ہمیشہ عجیب سا لگتا ہے کہ جس شخص کی رگوں کا خون میری رگوں میں دوڑتا ہے، جس کے نام اور کردار کی بازگشت میرے وجود میں کہیں نہ کہیں محفوظ ہے، اسے میں کبھی جان نہ سکا۔ حافظہ اچھا ہونے کے باوجود ان کی کوئی واضح شبیہ میرے ذہن میں موجود نہیں۔ شاید کبھی گود میں اٹھایا بھی ہو، شاید میرے ننھے وجود کو محبت سے دیکھا بھی ہو، مگر شعور کی تختی پر ان کا چہرہ ثبت نہ ہو سکا۔ لیکن بعض لوگ چہروں سے نہیں، روایتوں سے پہچانے جاتے ہیں اور "بابا آحمُند" بھی انہی لوگوں میں شامل تھے۔
ان........
