Kabeera Gunah: Insan Ki Ruhani Tabahi Ka Rasta
کبیرہ گناہ: انسان کی روحانی تباہی کا راستہ
انسان سے غلطیاں سرزد ہوتی ہیں اور یہی اس کی بشری کمزوری ہے، لیکن اسلام نے گناہوں کو ایک ہی درجے میں نہیں رکھا۔ بعض گناہ ایسے ہیں جن کے اثرات محدود ہوتے ہیں اور بعض ایسے ہیں جو انسان کے ایمان، کردار، خاندان، معاشرے اور آخرت کو تباہ کر دیتے ہیں۔ ایسے ہی گناہوں کو شریعت کی اصطلاح میں "کبیرہ گناہ" کہا جاتا ہے۔ قرآن مجید میں گناہِ کبیرہ کی کوئی اصطلاحی تعریف مذکور نہیں، لیکن قرآن و سنت کی روشنی میں علماء نے اس کی وضاحت کی ہے۔ ان کے نزدیک ہر وہ گناہ جس پر دنیا میں کوئی شرعی حد مقرر ہو، یا جس پر لعنت آئی ہو، یا جس کے بارے میں جہنم اور عذاب کی وعید سنائی گئی ہو، وہ کبیرہ گناہ ہے۔ اسی طرح وہ گناہ بھی کبیرہ شمار ہوتے ہیں جن کے مفاسد کسی معروف کبیرہ گناہ کے برابر یا اس سے زیادہ ہوں۔ مزید برآں اگر کوئی شخص کسی صغیرہ گناہ پر مسلسل اصرار کرے اور بے باکی کے ساتھ اسے بار بار انجام دیتا رہے تو وہ بھی کبیرہ گناہ کے حکم میں داخل ہو جاتا ہے۔
قرآن مجید نے کبیرہ گناہوں کی تعداد متعین نہیں کی، البتہ رسول اللہ ﷺ نے مختلف مواقع پر متعدد گناہوں کو کبیرہ قرار دیا۔ بعد ازاں علماء نے قرآن و حدیث کی روشنی میں ان گناہوں کو جمع کیا۔ اس موضوع پر امام شمس الدین ذہبی رحمہ اللہ........
