Federalist Paper Number 39, Wafaq Kya Hai?
فیڈرلسٹ پیپر نمبر 39، وفاق کیا ہے؟
انسانی تاریخ میں ریاستوں کی تشکیل ہمیشہ ایک پیچیدہ عمل رہی ہے۔ کچھ ریاستیں تلوار کے زور پر وجود میں آئیں، کچھ نسل، زبان یا مذہب کی بنیاد پر متحد ہوئیں اور کچھ نے مختلف اکائیوں کو ایک ایسے سیاسی معاہدے کے ذریعے جوڑا جس میں اتحاد اور خودمختاری دونوں کو ساتھ لے کر چلنے کی کوشش کی گئی۔ یہی وہ سوال تھا جس نے اٹھارہویں صدی کے اواخر میں امریکہ کے آئین سازوں کو بھی پریشان کر رکھا تھا۔ نئی ریاست وجود میں آ چکی تھی، لیکن یہ طے کرنا باقی تھا کہ مختلف ریاستوں اور مرکزی حکومت کے درمیان تعلق کی نوعیت کیا ہوگی۔
کیا تمام اختیارات مرکز کے پاس ہوں گے؟ کیا ہر ریاست تقریباً مکمل خودمختار رہے گی؟ یا پھر کوئی ایسی درمیانی راہ اختیار کی جائے گی جس میں قومی وحدت بھی محفوظ رہے اور مقامی شناخت بھی برقرار رہے؟ جیمز میڈیسن نے اپنے مشہور مضمون "فیڈرلسٹ نمبر 39" میں اسی سوال کا جواب دینے کی کوشش کی۔ بظاہر یہ ایک آئینی اور قانونی بحث تھی، لیکن درحقیقت یہ اقتدار، نمائندگی، وحدت اور تنوع کے درمیان توازن تلاش کرنے کی ایک فکری کاوش تھی۔ دو صدیوں سے زیادہ عرصہ گزرنے کے باوجود یہ مضمون دنیا کے ان تمام ممالک کے لیے اہمیت رکھتا ہے جو مختلف علاقوں، ثقافتوں اور آبادیوں کو ایک قومی ڈھانچے میں جوڑنے کی کوشش کرتے ہیں۔
میڈیسن نے سب سے پہلے اس غلط فہمی کو دور کرنے کی کوشش کی کہ وفاق کا مطلب مکمل مرکزیت یا مکمل خودمختاری میں سے کسی ایک کا انتخاب ہے۔ اس کے نزدیک ایک کامیاب وفاقی نظام دراصل دونوں انتہاؤں کے درمیان ایک دانشمندانہ توازن کا نام ہے۔........
