Federalist Number 47, Ikhtiyarat Ki Alehdagi
فیڈرلسٹ نمبر 47، اختیارات کی علیحدگی
انسانی تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ آزادی کا سب سے بڑا دشمن ہمیشہ بیرونی حملہ آور نہیں ہوتا، بلکہ اکثر اوقات وہ اقتدار ہوتا ہے جو آہستہ آہستہ تمام حدود عبور کرکے ایک ہی مرکز میں جمع ہو جاتا ہے۔ طاقت اپنی فطرت میں کشش رکھتی ہے۔ جو شخص یا ادارہ اسے حاصل کر لیتا ہے، وہ اکثر اس میں مزید اضافہ کرنے کی خواہش بھی محسوس کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کے عظیم مفکرین نے صرف اس سوال پر غور نہیں کیا کہ حکومت کیسے قائم کی جائے بلکہ اس سوال پر بھی غور کیا کہ حکومت کو حدود کا پابند کیسے رکھا جائے۔ جیمز میڈیسن نے اپنے معروف مضمون "فیڈرلسٹ نمبر سینتالیس" میں اسی بنیادی مسئلے کا جائزہ لیا۔ اس مضمون کا مرکزی نکتہ یہ تھا کہ اگر قانون بنانے، قانون نافذ کرنے اور قانون کی تشریح کرنے کے اختیارات ایک ہی فرد یا ادارے کے ہاتھ میں جمع ہو جائیں تو آزادی شدید خطرے میں پڑ جاتی ہے۔ میڈیسن نے اس خیال کو محض ایک سیاسی نظریے کے طور پر پیش نہیں کیا بلکہ اسے انسانی تجربے اور تاریخی مشاہدے کی روشنی میں بیان کیا۔ اس کے نزدیک اختیارات کی علیحدگی کوئی انتظامی سہولت نہیں بلکہ آزادی کے تحفظ کا ایک بنیادی اصول ہے۔
میڈیسن نے اپنی دلیل کو مضبوط بنانے کے لیے فرانسیسی مفکر مونٹیسکیو کے خیالات کا حوالہ دیا، جس نے اس بات پر زور دیا تھا کہ اقتدار کو مختلف حصوں میں تقسیم ہونا چاہیے تاکہ کوئی ایک قوت مطلق العنان نہ بن سکے۔ میڈیسن نے اس تصور کو مزید آگے بڑھاتے ہوئے واضح کیا کہ اختیارات کی علیحدگی کا مطلب........
