menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Allied Bank: Red Tapeism

16 0
yesterday

الائیڈ بینک: ریڈ ٹیپ ازم

بینک کسی بھی معاشرے میں محض رقم رکھنے، نکالنے اور منتقل کرنے کی جگہ نہیں ہوتا۔ بینک دراصل اعتماد کا ادارہ ہوتا ہے۔ ایک شخص اپنی محنت کی کمائی اس اعتماد کے ساتھ بینک کے حوالے کرتا ہے کہ جب اسے اپنی رقم، اپنے اکاؤنٹ یا کسی معمولی بینکاری ضرورت کے لیے ادارے کی ضرورت پڑے گی تو اسے عزت، سہولت اور پیشہ ورانہ تعاون حاصل ہوگا۔

یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں بینکاری کے شعبے میں صارف کو سب سے اہم حیثیت حاصل ہوتی ہے۔ لیکن اگر کسی بینک کی شاخ میں صارف کو اپنی جائز ضرورت پوری کروانے کے لیے افسران کے رویوں، غیر ضروری پیچیدگیوں، دفتری رکاوٹوں اور اختیارات کے غیر ضروری استعمال کا سامنا کرنا پڑے تو سوال صرف ایک صارف کی پریشانی کا نہیں رہتا، سوال پورے ادارے کی ساکھ کا بن جاتا ہے۔

میرا معاملہ بھی کچھ ایسا ہی ہے۔ میں گزشتہ دو دہائیوں سے زائد عرصے سے الائیڈ بینک لمیٹڈ کا صارف ہوں اور لالہ رخ واہ چھاؤنی شاخ میں میرے تین کھاتے ہیں، جن میں ایک "ایکسپریس اکاؤنٹ" یعنی بیرون ملک پاکستانیوں کے لیے مخصوص کھاتہ بھی شامل ہے۔ اتنے طویل عرصے تک کسی بینک کے ساتھ وابستہ رہنا محض ایک تجارتی تعلق نہیں بلکہ اعتماد کی علامت بھی ہے۔ لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اس شاخ میں حالیہ عرصے کے دوران جس قسم کا انتظامی اور صارف دُشمن رویہ دیکھنے کو ملا، اس نے اس اعتماد کو شدید متاثر کیا ہے۔

میری شکایت کسی ایک معمولی واقعے کی بنیاد پر نہیں بلکہ مسلسل تجربات کی بنیاد پر ہے۔ سب سے زیادہ افسوس اس بات کا ہے کہ جب ایک صارف اپنے مسئلے کے حل کے لیے بینک کے متعلقہ شعبے سے رجوع کرتا ہے تو اسے مسئلے کا حل ملنے کے بجائے ایک نئی مشکل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے صارف سہولت حاصل کرنے نہیں بلکہ کسی دفتری اجازت کے حصول کے لیے حاضر ہوا ہو۔

میرا پہلا مسئلہ اکاؤنٹ مینٹیننس سرٹیفکیٹ کے حصول سے متعلق تھا۔ یہ کوئی ایسا مطالبہ نہیں تھا جس کے لیے کسی غیر معمولی رعایت یا خصوصی اختیار کی ضرورت ہو۔ ایک طویل عرصے سے بینک کے صارف کی حیثیت سے مجھے ایک بنیادی بینکاری دستاویز درکار تھی۔ توقع یہی تھی کہ شاخ کا عملہ درخواست سنے گا، مطلوبہ دستاویز فراہم کرنے کا طریقہ بتائے گا اور اگر کوئی کمی یا قانونی تقاضا موجود ہے تو اسے واضح کرے گا۔

لیکن افسوس کہ معاملہ اس سادہ انداز میں حل نہ ہوسکا۔ اس کے بعد میں نے الائیڈ بینک کے شکایتی شعبے کو باقاعدہ تحریری شکایت بھیجی۔ شکایت میں کسی فرد کی تضحیک نہیں کی گئی، کسی غیر معمولی مطالبے کا ذکر نہیں تھا، صرف یہ گزارش تھی کہ شاخ کے انتظام اور صارفین کے ساتھ برتاؤ کا جائزہ لیا جائے اور مسئلے کا مناسب حل نکالا جائے۔

میں نے یہ بھی واضح کیا کہ بیرون ملک مقیم صارف کے لیے بینکاری امور پہلے ہی نسبتاً مشکل ہوتے ہیں، اس لیے شاخ کی طرف سے تعاون اور رہنمائی کی ضرورت اور بھی بڑھ جاتی ہے۔ لیکن حیرت انگیز طور پر اس شکایت کا کوئی جواب نہیں آیا۔ نہ یہ بتایا گیا کہ شکایت کس افسر کے پاس گئی، نہ یہ بتایا گیا کہ معاملے کی کوئی جانچ ہوئی، نہ یہ معلوم ہوسکا کہ شکایت کے نتیجے میں کسی قسم کی اصلاحی کارروائی کی گئی۔

یوں محسوس ہوا کہ شکایت کا مقصد ہی شاید اسے سننا........

© Daily Urdu (Blogs)