menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Qarzon Pe Khari Maeeshat

9 6
27.01.2026

فرض کریں ایک شخص ہر مہینے تنخواہ ملتے ہی سب سے پہلے پرانے قرض کی قسط ادا کرتا ہے۔ اس کے بعد بجلی، گیس اور بچوں کی فیس کا نمبر آتا ہے۔ مہینے کے آخر میں جب جیب خالی ہو جاتی ہے تو وہ پھر کسی دوست سے ادھار لے لیتا ہے، یہ سوچ کر کہ اگلی تنخواہ پر سب ٹھیک ہو جائے گا۔ مسئلہ یہ ہے کہ اگلی تنخواہ بھی اسی چکر میں گزر جاتی ہے۔ کچھ عرصے بعد قرض زندگی کا حصہ نہیں، زندگی قرض کا حصہ بن جاتی ہے۔

آج پاکستان کی معیشت اسی کردار میں کھڑی دکھائی دیتی ہے، بس فرق یہ ہے کہ یہاں رقم کروڑوں یا لاکھوں میں نہیں بلکہ اربوں میں لکھی جاتی ہے۔ اگر اس کہانی کو کسی مستند ذریعے کی زبان میں سمجھنا ہو تو سٹیٹ بینک آف پاکستان کے اعداد و شمار کافی ہیں۔ انہی کے مطابق 2023ء میں ملک کا مجموعی قرض تقریباً 65 ہزار 195 ارب روپے تھا۔ اگلے سال 2024ء میں یہ رقم بڑھ کر 70 ہزار 365 ارب روپے ہوگئی اور 2025ء میں قرض کا حجم مزید پھیل کر 77 ہزار 543 ارب روپے تک جا پہنچا۔ یعنی صرف ایک برس میں قریب 10 فیصد اضافہ۔ یہ وہ نمبرز ہیں جو فائلوں میں خاموشی سے درج ہو جاتے ہیں، مگر ان کی آواز بازار، تنخواہ دار طبقے اور عام شہری کی زندگی میں صاف سنائی دیتی ہے۔

افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ حکومت نے قرض کو، جسے خود بار بار ناسازگار اور نقصان دہ قرار دیتی ہے، اپنا سب سے وفادار اور لازمی ساتھی بنا لیا ہے۔ جب بھی ملکی آمدن کم پڑتی ہے، فوراً اسی کے دروازے پر دستک دی جاتی ہے، گویا یہی واحد جادوئی حل ہے۔ ملک کی معیشت ہر بحران کے بعد دوبارہ قرض کے سہانے بوجھ تلے دب جاتی ہے........

© Daily Urdu (Blogs)