Mushtarka Kitchen
ہم میں سے کوئی بھی کھانا پکانے کا ہنر سیکھ کر نہیں آیا تھا، سب کے سب گھر کے لاڈلے، جنہیں باورچی خانے میں جانے کی اجازت کم اور پلیٹ میں کھانا آنے کا حق زیادہ ملا تھا، مگر پردیس آ کر قسمت نے ہمیں ایک مشترکہ میس کے فلسفے سے آشنا کیا، یوں دس لڑکوں کا عظیم الشان اتحاد وجود میں آیا، جس کے ممبران تھے: حافظ سید افتخار الحق بخاری، سید عامر بلا نقوی، مدنی، فیصل شاہ، غلام مصطفے موٹا (نام ہی آدھا وزن پورا کر دیتا تھا)، کامران، علی سہیل، رانا کاشف اور میں بذات خود، ہمارے کمرے کے عین سامنے حافظ افتخار والا کمرہ بطور کچن منتخب ہوا، شاید اس لیے کہ باقی سب کو جلنے سے بچایا جا سکے، باقاعدہ ڈیوٹیاں لگیں: فلاں سبزی کاٹے گا، فلاں برتن دھوئے گا، فلاں چاول اور فلاں کھانا پکائے گا، ایک کمرہ مشترکہ سٹڈی روم بنا، جہاں پڑھائی کم اور دانشورانہ بحثیں زیادہ ہوتیں، جبکہ دو کمرے سونے کے لیے مخصوص ہوئے، سونے کے لیے، جاگنے کے لیے نہیں۔
سب نے بیس بیس ڈالر جمع کروائے اور پھر زیلونی بازار پر دھاوا بولا جیسے مہینوں کا راشن ایک ہی دن میں ختم کرنا ہو، وافر سامان خریدا گیا، مقامی تیار شدہ سوفٹ ڈرنکس فیملی سائز میں آئیں اور مدنی کے لیے خصوصی انتظام ہوا: فانٹا کے دو کریٹ کیونکہ یہ اس کا پسندیدہ مشروب تھا اور پسندیدہ چیز پر سمجھوتہ قومیں نہیں کیا کرتیں، یوں ہمارا میس وجود میں آیا: تجربہ گاہ، قہقہوں کی فیکٹری اور دوستی کی درسگاہ، جہاں کھانا کبھی کم پڑتا، کبھی جل جاتا، مگر ہنسی ہمیشہ وافر رہتی۔
پہلے دن سب میں ایسا جوش تھا جیسے کُکنگ شو کے فائنل میں آ گئے ہوں، کوئی پیاز چھیل رہا، کوئی مصالحے صاف کر رہا، کوئی مرغی کے ٹکڑے دھو دھا کر ایسے رکھ رہا تھا جیسے سرجن آپریشن سے پہلے آلات سجا رہا ہو اور کوئی آٹا گوندھ رہا تھا، حالانکہ اسے خود بھی یقین نہیں........
