menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Haji Nosar Baz

31 0
16.08.2026

چند سال پہلے سعودیہ میں حج کرنا بہت آسان تھا، ایام حج میں احرام باندھا، مکہ پہنچ کر کمرہ کرایہ پر لیا اور مناسک حج ادا کرکے حاجی بن گئے، یوں علاقہ کا نامی گرامی لوفر حاجی کہلوانے لگتا، اب سب سے سستا حج پرمٹ پندرہ ہزار ریال قیمت ہے، حیوان کی آنکھ میں خیر و شر کا کوئی وجود نہیں ہوتا، فقط مفادات کی ہوس جمع ہوتی ہے، اس مرحلے سے آگے ابتدا ہوتی ہے اس مہان ہستی کی جسے پاکستان میں لوگ حاجی جبکہ مقامی لوگ حاجی نوسرباز پکارتے ہیں، جب یہ حضرات کچھ سینئر ہو گئے، کاروبار چل نکلا اور تجربے کی ڈگریاں حاصل ہوگئیں تو انہوں نے اپنے چھوٹے بھائیوں کو بھی پاکستان سے بلا لیا، چھوٹے بھائی کو پہلے دن ہی ایک مکمل آن جاب ٹریننگ پروگرام فراہم کیا جاتا: "دیکھ پتر! یہاں ایسے نہیں کرنا۔۔ ایسے کرنا ہے"۔ پھر اسے شہر کی گلیاں دکھائی جاتیں، لوگوں کی نفسیات سمجھائی جاتیں، کس سے کیا بات کرنی ہے، کس سے کتنی کرنی ہے، کہاں معصوم بننا ہے اور کہاں ایسا ظاہر کرنا ہے جیسے دنیا میں تم سے زیادہ شریف آدمی کوئی پیدا ہی نہیں ہوا، جہاں مفاد ہو وہاں جھوٹی قسم و قرآن سے پرہیز منع نہیں ہے، یوں ایک بھائی روزگار کے لیے آتا اور دوسرا اسے تربیت یافتہ نوسرباز بنانے میں جُت جاتا، ایسے حضرات کے لیے ایک بات بالکل واضح تھی کہ لوگ اچھے نام سے پکاریں یا برے نام سے، انہیں کوئی خاص پرواہ نہ تھی، ان کا فلسفۂ زندگی نہایت سادہ تھا: "نام نال کی لینا اے؟ پیسہ آنا چاہئے!"

مگر ان سب کے درمیان ایک قدر مشترک ضرور تھی، مشن ایک ہی تھا، پیسہ کماؤ، طریقہ کار ہر شخص کا اپنا، اخلاقیات کا معیار بھی اپنا اپنا، مگر منزل ایک اور پردیس کی دنیا میں شاید یہی سب سے خطرناک بات ہے کہ جب مقصد صرف پیسہ رہ جائے تو آدمی ایک وقت کے بعد یہ پوچھنا بھی چھوڑ دیتا ہے کہ پیسہ کس راستے سے آ رہا ہے۔

یہاں بہت سے نوسربازوں کے قصے ان کی اپنی زبانی سن کر کانوں کو ہاتھ لگائے ہیں، آدمی حیران رہ جائے کہ بندہ اپنے سیاہ ماضی کو ایسے فخر سے بیان کرتا ہے جیسے یونیورسٹی سے........

© Daily Urdu (Blogs)