menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Aman Ka Husool Sabr Azma Manzil

23 0
13.04.2026

امن کا حصول صبر آزما منزل

ستمبر 1978 کی ایک گہری شام تھی۔ کیمپ ڈیوڈ کے پرسکون جنگلات میں دو ایسے رہنما اکٹھا ہوئے جو برسوں سے ایک دوسرے کے خون کے پیاسے سمجھے جاتے تھے۔۔ انور سادات اور مناخم بیگن۔ بارہ دن تک بات چیت جاری رہی۔ کئی بار مذاکرات ٹوٹنے کے قریب پہنچے، دروازے بند ہوئے، لہجے تلخ ہوئے مگر آخرکار ایک معاہدہ طے پایا جسے تاریخ کیمپ ڈیوڈ معاہدہ کے نام سے یاد رکھتی ہے۔ اس معاہدے نے یہ ثابت کیا کہ دہائیوں کی دشمنی ایک دن میں ختم نہیں ہوتی مگر ایک دن ایسا ضرور آتا ہے جب اس کے خاتمے کا آغاز ہو جاتا ہے۔

اسلام آباد میں حالیہ مذاکرات کو اسی تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ ایران اور ریاستہائے متحدہ امریکہ کے درمیان اکیس گھنٹے کی طویل گفت و شنید کا "بے نتیجہ" ختم ہونا بظاہر ایک ناکامی محسوس ہو سکتا ہے مگر حقیقت اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔ بین الاقوامی سفارت کاری میں "دروازے بند نہ ہونا" ہی سب سے بڑی کامیابی سمجھا جاتا ہے۔

ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ یہ وہ دو........

© Daily Urdu (Blogs)