menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Qaum Ke Maseeha Aur Gaon Ki Auratein

18 0
22.05.2026

قوم کے مسیحا اور گائوں کی عورتیں

ہمارے گائوں 32 ٹو ایل اوکاڑہ میں ایوب دور میں ڈسپنسری تو بن گئی مگر ڈسپنسر نہ ملا۔ گائوں میں اُن دِنوں گل بات والا آدمی میاں شفیع ہوتا تھا۔ وہ ساہیوال کے ڈپٹی کمشنر سے ملا اور کہا ہمیں گائوں کی ڈسپنسری کے لیے ایک ڈسپنسر دے دیں۔ تب اوکاڑہ تحصیل ہوگئی تھی اور یہاں ایک ہسپتال بھی تھا۔ ڈی سی صاحب نے ہسپتال کے ڈاکٹر کو حکم دیا، شفیع صاحب کے گائوں میں ایک کمپوڈر بھیج دو۔ اُس نے اپنے ہسپتال کے ملازموں کا جائزہ لیا تو پتا چلا کہ وہاں ایک حواس باختہ ڈسپنسر ہے جو کئی مریضیوں کو پانی کے انجیکشن لگا چکا ہے، کئی مریضوں کو دوسرے مریضوں کی دوائیاں کھلا چکا ہے اور انجیکشن بھی ایک مریض کا دوسرے مریض کے ٹھونک دیتا ہے۔ غرض ہسپتال میں اُس کی کارکردگی تسلی بخش تھی۔ اُس نے وہی کمپوڈر یا ڈسپنسر کہہ لیں، ہمارے........

© Daily Urdu (Blogs)