menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Hussain Sab Ke Hain

17 0
wednesday

تاریخ کے چند کردار اور چند مناظر زمانے کی حدود سے بلند ہو جاتے ہیں، وہ ہر نسل کے دروازے پر سوال، پیغام اور شعور بن کر دستک دیتے رہتے ہیں۔ کربلا بھی ایسا ہی ایک منظر ہے۔ ایک ریگزار، چند خیمے، پیاس سے تڑپتے بچے، حق کے لیے ڈٹا ہوا ایک قافلہ اور طاقت کے نشے میں مست ایک نظام۔ لیکن حیرت یہ ہے کہ چودہ سو برس گزرنے کے باوجود کربلا ختم نہیں ہوئی۔۔ وہ آج بھی زندہ ہے۔۔ وہ ہمارے گھروں میں، ہماری گفتگوؤں میں، ہماری تحریروں میں، ہمارے رویوں میں اور بدقسمتی سے ہماری نفرتوں میں بھی زندہ ہے۔ ہر سال محرم آتا ہے۔ فضا سوگوار ہوتی ہے، دل عقیدت سے بھر جاتے ہیں، آنکھیں نم ہو جاتی ہیں، مجالس سجتی ہیں، جلوس نکلتے ہیں اور امام حسینؑ کے نام کی گونج سنائی دیتی ہے۔ مگر ایک سوال ہر سال میرے ذہن میں ابھرتا ہےکہ کیا ہم واقعی امام حسینؑ کو یاد کرتے ہیں یا صرف اپنے اپنے مسلک کو؟

عجیب بات ہے کہ جس شخصیت نے انسانیت کو جوڑنے کے لیے اپنی جان قربان کی، ہم اسی کے نام پر بٹ جاتے ہیں۔ جس کربلا نے ظلم اور جبر کے خلاف ایک آفاقی پیغام دیا، ہم اسے فرقوں کی دیواروں میں قید کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ جس حسینؑ نے محبت، صبر اور استقامت کا درس دیا، ہم ان کے نام پر تلخی اور نفرت بانٹ رہے ہیں۔ محرم آتے ہی سوشل میڈیا کا ایک عجیب مذہبی موسم شروع ہو جاتا ہے۔ ایسا لگتا ہے جیسے ہر شخص مفتی بھی ہے، مورخ بھی، قاضی بھی اور جلاد بھی۔ چند لمحوں میں فتوے جاری ہوتے ہیں، فیصلے سنائے جاتے ہیں اور پھر کمنٹ سیکشن میدانِ جنگ بن جاتا ہے۔ ایک غیر محتاط جملہ لکھا جاتا ہے اور کئی دلوں میں کدورت کے بیج بو دیے جاتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہی کربلا کا پیغام ہے؟ اگر ایک جملہ کسی مسلمان کے دل میں نفرت پیدا کر دے، اگر ایک پوسٹ امت کے درمیان فاصلے بڑھا دے، اگر ایک دلیل دل آزاری کا سبب بن جائے تو کیا وہ واقعی دینی خدمت ہے؟

آج کا المیہ یہ نہیں کہ مسلمانوں کے درمیان اختلافات موجود ہیں۔ اختلاف تو ہمیشہ سے موجود رہے ہیں۔ المیہ یہ ہے کہ بات صرف خیالات تک محدود نہیں رہی، دل بھی ایک دوسرے سے اجنبیت محسوس کرنے لگے ہیں۔ پہلے لوگ نظریات میں مختلف........

© Daily Urdu (Blogs)